اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کے دروزی رہنما اور سابق سیاسی شخصیت ولید جنبلاط نے کہا ہے کہ لبنانی فوج کبھی بھی حزباللہ کے خلاف نہیں کھڑی ہوگی، کیونکہ اس کی ساخت اور سماجی حقیقت اس کی اجازت نہیں دیتی۔
فرانسیسی اخبار لوموند کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں وہی حکمتِ عملی استعمال کر رہا ہے جو اس نے غزہ میں اختیار کی، اور اس کے نتیجے میں لبنانی دیہات بڑے پیمانے پر تباہ ہوئے اور بڑی تعداد میں شہری بے گھر ہوئے ہیں۔
ولید جنبلاط کے مطابق لبنان میں اس وقت عملی طور پر صرف ایک منظم مسلح قوت موجود ہے اور وہ حزباللہ ہے، اس لیے یہ تصور ہی غیر حقیقی ہے کہ کوئی بھی قوت اس کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنانی فوج کے اندر بھی بڑی تعداد شیعہ اہلکاروں کی ہے، لہٰذا فوج کے لیے حزباللہ کے خلاف کارروائی کرنا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کی حکومت اسرائیلی جارحیت کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، اور صورتحال میں حقیقی تبدیلی صرف اسی وقت ممکن ہے جب امریکہ اسرائیل کو جنوبی لبنان سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرے، جو ان کے مطابق عملی طور پر مشکل ہے۔
جنبلاط نے یہ بھی کہا کہ حزباللہ نے 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف کارروائیاں شروع کیں، لیکن اسے مکمل طور پر جنگ کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیونکہ خطے میں اصل نیتیں اور حالات پیچیدہ ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا کر تقسیم اور عدم استحکام کو فروغ دینا چاہتا ہے، اور یہی حکمت عملی نہ صرف لبنان بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
ولید جنبلاط نے شام کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں استحکام کے لیے شام کا استحکام ضروری ہے، تاہم وہاں دروزی برادری کے بعض حلقوں کا جھکاؤ تقسیم کی طرف ہے، جسے وہ خطرناک سمجھتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ