اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور شہری علاقوں پر اسرائیلی حملوں کے باوجود تحریک، ثالثوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے سے متعلق عملی اور قابل قبول حل تک پہنچا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کرنے اور وہاں کے شہریوں کو بے دخل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جو کہ معاہدے کی روح کے منافی ہے۔
حازم قاسم کے مطابق اسرائیل کے اقدامات نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اس عمل میں شامل تمام فریقین کی ساکھ کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے میانجی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح اور سخت مؤقف اختیار کریں تاکہ جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے سے منسلک نیکولائی ملاڈینوف پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جاری اسرائیلی کارروائیوں پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور اپنے کردار کو غیر جانبدار بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
حماس کے ترجمان نے کہا کہ ملاڈینوف کو چاہیے کہ وہ کھل کر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کریں اور کسی بھی ایسے عمل سے گریز کریں جو فلسطینی عوام کے خلاف حملوں کو جواز فراہم کرے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ کے بڑے حصے پر کنٹرول کے دعوے کیے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ غزہ کا پورا علاقہ فلسطینی عوام کا حق ہے اور اسرائیل کو اپنے قبضے سے پیچھے ہٹنا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ