بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایران کے خلاف امریکہ کی ہمہ جہت جنگ، امریکہ کے اندرونی بحرانوں کا آئینہ دار بن گئی ہے یہاں تک کہ کچھ سیاسی مبصرین اس جنگ کو ٹرمپ کی سب سے بڑی اسٹراٹیجک غلطی قرار دیتے ہیں برسوں سے شدید پابندیوں کے تحت رہنے والا ملک [ایران] امریکہ کو فرسودگی سے دوچار کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
حصۂ دوئم:
لہٰذا، امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹنگ، امریکہ کے دو دھڑوں کے درمیان درحقیقت ایک ریفرنڈم ہوگی: پہلا دھڑا، مداخلت پسند لبرل تسلط کا خواہاں ہے اور دوسرا، امریکہ کو فوجی مصروفیات میں کمی اور بیرونی (فاصلاتی طور پر، دور بیٹھ کر) توازن سازی کے طریقے اپنانے کی دعوت دیتا ہے۔
نتیجتاً، ان انتخابات کے نتائج وہ راستہ متعین کریں گے جو ریاستہائے متحدہ ـ اپنے بین الاقوامی تعلقات کے انتظام میں، خاص طور پر ٹرمپ کی صدارت کے بقیہ دور میں، ـ اختیار کرے گا: کہ آیا وہ نظام کی ازسرنو تعمیر کے بنیادی ذریعے کے طور پر فوجی طاقت کے استعمال کو جاری رکھے گا؛ یا نہیں بلکہ، زیادہ انتخابی نمونے کی طرف بڑھے گا جس کی توجہ مسابقت کے انتظام اور براہ راست مصروفیات میں کمی پر ہوگی؟
بین الاقوامی سطح پر
جو چیز امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کو اہم بناتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے نتائج داخلی پالیسی تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ اگلے مرحلے میں بین الاقوامی ترتیب کی ترتیب کی نوعیت پر براہ راست اثر انداز ہوں گے۔ اگر انتخابات ایسی داخلی اکثریت کو دوبارہ پیدا کر دیں جو ٹرمپ کے موجودہ مداخلت پسند کردار کی حمایت کرتی ہے، تو اس کا نتیجہ جنگجوئی کے رجحان کے تسلسل اور تسلط کی منطق پر دوبارہ ارتکاز، کی صورت میں برآمد ہوگا۔
لیکن اگر یہ انتخابات اگلی کانگریس میں فوجی مداخلتوں کے حامیوں کی تعداد میں کمی کا باعث بنیں، تو یہ ریاستہائے متحدہ کو اپنے مداخلت پسند رویے پر قابو پانے کی طرف لے جا سکتا ہے، اور ساتھ ہی، ایک زیادہ حقیقت پسندانہ فریم ورک میں بین الاقوامی ترتیب کی ازسرنو تعمیر کی کوشش کرے گا۔
اس طرح، ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ، امریکی طاقت ـ اور جہاں چاہے اور جب چاہے مداخلت کرنے کی صلاحیت ـ کے حقیقی امتحان کا لمحہ تصور کی جاتی ہے۔ تاہم، اس جنگ کی سب سے بڑی تزویراتی لاگت ـ زيادہ حد تک ـ امریکی تسدید (Deterrence) کی صلاحیت کی کمزوری اور فرسودگی کی صورت میں، سامنے آ سکتی ہے؛ کیونکہ ایک علاقائی ملک ـ جو دہائیوں سے مسلسل پابندیوں کا شکار رہا ہے، ـ دنیا کی طاقتور ترین طاقت کو کمزوری اور گھساؤ سے دوچار کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
یہ جنگ عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں موجودہ تبدیلیوں کو تیز کرنے میں مدد دے سکتی ہے اور کھلے تنازعات میں [اعلانیہ طور پر براہ راست] ملوث ہونے کی امریکی صلاحیت پر مزید قدغنیں عائد کر سکتی ہے اور اسے محدود کر سکتی ہیں، خاص طور پر امریکہ پر عائد ہونے والے جنگ کے سیاسی اور معاشی اخراجات میں اضافے کے بعد۔
مصنف نے آخر میں زور دیا ہے کہ ایران پر جنگ ریاستہائے متحدہ میں دو راستوں کے ملاپ کا ذریعہ بن گئی ہے: پہلا، ایک داخلی بحران جس نے امریکی سیاسی نظام میں گہرے ساختی دراڑوں کو بےنقاب کر دیا ہے، اور دوسرا، ایک بین الاقوامی تبدیلی، جو عالمی قیادت اور ابھرتے ہوئی بین الاقوامی ترتیب کے سوال کو دوبارہ اٹھاتی ہے۔
اس ملاپ کے اندر سے، حقیقی جنگ اس بات پر ہو رہی ہے کہ ریاستہائے متحدہ ٹرمپ کی صدارت کے بقیہ دور میں کس بین الاقوامی ترتیب کو مستحکم کرنے کی کوشش کرے گا اور بڑھتے ہوئے داخلی دباؤ اور بدلتے ہوئے بین الاقوامی ماحول کے تحت اسے حاصل کرنے کے لئے کون سے اوزار استعمال کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: فتانہ غلامی
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ