بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سینیچر اور اتوار کی درمیانی شب ایک انتہائی شدید دھماکے نے مقبوضہ سرزمین میں بیت شمش کو آگ کے شعلوں میں جھونک دیا اور صہیونی آبادکاروں کو وسیع پیمانے پر خوف و وحشت سے دوچار کیا جو اسے ایران کا حملہ سمجھ بیٹھے تھے۔
صہیونی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ ایک کنٹرول شدہ دھماکہ تھا لیکن اب معلوم ہؤا ہے کہ یہ دھماکہ ٹومر فیکٹری میں ہؤا تھا، جہاں میزائل اور ایرو ایئرڈیفنس کے میزائل بنتے تھے، اور اس میں ایٹمی وارہیڈز رکھے جاتے تھے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ان میزائلوں اور وارہیڈز کا ایک بڑا حصہ دھماکے سے تباہ ہو گیا ہے۔
بیت شمش کا پراسرار اور زبردست دھماکہ اور فرانسیسی نیٹ ورک کا انکشاف
مقبوضہ اراضی میں تعینات فرانسیسی نیٹ ورک بی ایف ایم ٹی وی (BFMTV) کی نامہ نگار لورا کیمباڈ (Laura Cambaud) نے کہا: یہ دھماکہ اسرائیلی فوج اور فضائیہ کے اڈے میں ہؤا؛ اسرائیل کے سرکاری اعلان کے بارے میں شدید شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں اور یہاں کے باشندے بہت سے سوالات اور خدشات کا اظہار کر رہے ہیں!
چونکہ یہ علاقہ رہائشی ہے، اس لئے اس سے قبل، کسی بھی تجربے سے پہلے لوگوں کو مطلع کیا جاتا تھا، لیکن اس بار کسی بھی باشندے کو آگاہ نہیں کیا گیا، اور اسی وجہ سے بہت سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں؛یہ کہ یہ ایک کنٹرولڈ تجربہ نہیں تھا بلکہ ایک بہت بڑا حادثہ تھا۔
جہاں یہ زبردست دھماکہ ہؤا، وہاں حساس اور فوجی آلات رکھے جاتے ہیں، جن میں وہاں ذخیرہ کئے گئے ایٹمی وارہیڈز بھی شامل ہیں۔
ویڈیو کی تفصیل:
حکام کہتے ہیں: بالکل کنٹرول شدہ اور پہلے سے منصوبہ بند فوجی تجربہ تھا اور یہ تجربہ تومر کمپنی نے انجام دیا ہے جو دفاعی شعبے ـ خاص طور پر میزائلوں اور راکٹوں کے انجن بنانے والی ـ سرکاری کمپنی ہے۔
یہ بہت ہولناک دھماکہ تھا جو رات کے ساڑھے گیارہ بجے بالکل میرے پیچھے واقع پہاڑیوں میں ہؤا۔ کیوں؟
اس لئے کہ یہاں اسرائیلی فوج کا ایک اڈہ واقع ہے، اسرائیلی فضائیہ کا ایک اڈہ۔
میزبان کا سوال: لورا! کیا سرکاری بیانیے کے بارے میں سنجیدہ خدشات درست ہیں؟
لورا: جی ہاں، بالکل درست ہیں، وہ کہتے ہیں کہ کوئی نقصان نہیں ہؤا ہے اور کوئی بھی زخمی یا ہلاک نہیں ہؤا ہے؛ لیکن یہ کے باشندے بہت سارے سوالات اٹھا رہے ہیں۔
ہم نے ایک مرد سے بات کی جس نے ابھی اسی وقت ہم سے کہا کہ وہ یہاں کسی تجربے سے بے خبر تھا۔ حالانکہ عام طور پر باشندوں کو پیشگی اطلاع دی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ ایک رہائشی علاقہ ہے، رہائشیوں کو پیشگی اطلاع دی جاتی ہے۔
دوسرا نکتہ بھی یہاں رہنے والے آبادکارون کے لئے باعث تشویش ہے؛ وہ یہ یہ "تجربہ" رات کے ساڑھے گیارہ بجے کیوں انجام دیا گیا ہے؟ حالانکہ یہ اگر "تجربہ" تھا تو یہ ہفتے کے دوران مناسب اوقات میں انجام دیا جا سکتا ہے۔
علاوہ ازیں، لوگ بہت فکرمند ہیں کیونکہ حالات بہت خاص قسم کے ہیں۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہم اس وقت حزب اللہ اور ایران کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں۔
اسی بنا پر اس واقعے کے بارے میں مختلف قسم کے نظریات تشکیل پائے ہیں؛ خاص طور پر اس سائٹ پر ـ جو بالکل میری پشت پر واقع ہے، ـ حساس آلات اور فوجی وسائل رکھے جاتے ہیں، جن میں وہ ایٹمی وارہیڈز بھی ہیں جن کا یہاں ذخیرہ بنایا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ