20 مئی 2026 - 16:08
مآخذ: ابنا
ایران کے خلاف جنگ سے ایشیا میں 82 کروڑ افراد کی زندگی متاثر

ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایشیا میں تقریباً 82 کروڑ افراد کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق اس بحران نے دنیا کو ایک غیرمعمولی توانائی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایشیا میں تقریباً 82 کروڑ افراد کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق اس بحران نے دنیا کو ایک غیرمعمولی توانائی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مائع گیس (ایل پی جی) اس بحران کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے، کیونکہ دنیا بھر میں اربوں لوگ گھریلو استعمال اور کھانا پکانے کے لیے اسی ایندھن پر انحصار کرتے ہیں۔ خاص طور پر بھارت، انڈونیشیا اور مشرقی ایشیا کے کئی ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی تقریباً 80 فیصد اور انڈونیشیا کی 90 فیصد گھریلو ضروریات ایل پی جی پر منحصر ہیں، جبکہ ان ممالک کی بڑی مقدار مشرقِ وسطیٰ سے آبنائے ہرمز کے ذریعے درآمد کی جاتی ہے۔ جنگ کے بعد اس راستے سے ایل پی جی کی ترسیل میں تقریباً 80 فیصد کمی واقع ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایل پی جی کی قلت اور قیمتوں میں شدید اضافے کے باعث کئی خاندانوں کو کھانا پکانے کے لیے متبادل ذرائع، جیسے لکڑی اور کوئلہ، استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ بھارت میں بعض علاقوں سے شہروں سے دیہات کی جانب نقل مکانی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ ذخائر اس بحران سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہیں، جبکہ قطر اور عمان میں ایل پی جی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات نے صورتحال مزید سنگین بنا دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مارچ 2026 میں ایل پی جی کی قیمتیں بھارت اور مشرقی افریقہ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 90 فیصد تک بڑھ گئیں، جبکہ مغربی افریقہ میں بھی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض ممالک برقی چولہوں کے استعمال کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن فوری طور پر ایل پی جی کا مؤثر متبادل دستیاب نہیں، جس کے باعث بحران کے طویل ہونے کا خدشہ برقرار ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha