دو سابق امریکی فوجی اہلکاروں نے دو علیحدہ انٹرویوز میں بیت شمش (تل ابیب کے قریب) میں دو رات پیش آنے والے دھماکے کے سلسلے میں مفصل وضاحتیں پیش کی ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ دھماکہ ہرگز کوئی کنٹرول شدہ تخریب کاری نہیں تھا، اور یہ اسرائیل کے میزائل اور دفاعی شعبے سے منسلک ایک فوجی ماحول میں ہوا ہے، اور یہ کسی خاص منصوبے کی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔
سینیچر اور اتوار کی درمیانی شب ایک انتہائی شدید دھماکے نے مقبوضہ سرزمین میں بیت شمش کو آگ کے شعلوں میں جھونک دیا اور صہیونی آبادکاروں کو وسیع پیمانے پر خوف و وحشت سے دوچار کیا جو اسے ایران کا حملہ سمجھ بیٹھے تھے۔ / فرانسیسی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسی بنا پر اس واقعے کے بارے میں مختلف قسم کے نظریات تشکیل پائے ہیں؛ خاص طور پر اس لئے کہ اس سائٹ پر حساس آلات اور فوجی وسائل رکھے جاتے ہیں، جن میں وہ ایٹمی وارہیڈز بھی ہیں جن کا یہاں ذخیرہ بنایا گیا ہے۔