"آزادی پروجیکٹ" جسے امریکہ کی کھوئی ہوئی بالادستی بحال کرنا تھی، ایران کی بحری قوت سے ٹکرانے کے بعد سپرد خاک کر دیا گیا۔ ایک آپریشنل ناکامی جس نے امریکی تجزیہ کاروں کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ اپنی بحریہ کی کارکردگی کو "رسوائی (یا رسواکن)" قرار دیں۔ آبنائے ہرمز میں جنگ کے قواعد طے کرنے کا اختیار اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے۔
"آزادی پروجیکٹ" جسے امریکہ کی کھوئی ہوئی بالادستی بحال کرنا تھی، ایران کی بحری قوت سے ٹکرانے کے بعد سپرد خاک کر دیا گیا۔ ایک آپریشنل ناکامی جس نے امریکی تجزیہ کاروں کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ اپنی بحریہ کی کارکردگی کو "رسوائی (یا رسواکن)" قرار دیں۔ آبنائے ہرمز میں جنگ کے قواعد طے کرنے کا اختیار اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے۔
بین الاقوامی ذرائع کی رپورٹ کے مطابق، "پروجیکٹ فریڈم" (Project Freedom) جسے ٹرمپ انتظامیہ نے زبردست تشہیر کے ساتھ شروع کیا تھا، ابتدائی 48 گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں روک دیا گیا اور اس واقعے "ایک زوال پذیر طاقت" کی ایک اور علامت نمایاں کر دی۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے مقابلے میں دہشت گرد امریکی ریاست کی شکستوں کے امتداد میں، ٹرمپ نے نام نہاد "پروجیکٹ فریڈم" آپریشن کے رک جانے کا اعلان کیا جو اس نے اپنے بزعم آبنائے ہرمز سے جہازوں کے عبور کے لئے شروع کی تھی! / پروجیکٹ فریڈم ٹرمپ کے اپنے بیمار ذہن کی تخلیق تھا اور ایران کے ساتھ مذاکرات اور پاکستان کی طرف سے اس کے التوا کی خیالی درخواست بھی اس قاعدے سے مستثنیٰ نہیں تھی۔
ٹرمپ کے یس مین امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے بظاہر ایران کے خلاف شروع کردہ جارحیت ـ یا بقول ان کے ایپک فیوری آپریشن ـ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے، مبینہ طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے مبینہ "پروجیکٹ فریڈم!" نامی کاروائی کا اعلان کیا جو کہ ایپک فیوری آپریشن کی طرح ناکام ہو گئی۔ / امریکہ کا "پروجیکٹ فریڈم" درحقیقت "تعطل کا پروجیکٹ" ہے، عراقچی / ایک رسوائی اور؛ دہشت گرد امریکی فوج نے باربردار کشتیوں پر سوار عام شہریوں کو نشانہ بنایا!