7 جنوری 2026 - 17:51
امریکہ کو نکولس مادورو پر 'لاس سولیس' کارٹیل' کی سرکردگی کا سب سے اہم الزام واپس لینا پڑا

امریکہ کے انسداد منشیات کے ایجنٹوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو نیویارک کی عدالت میں پیش کیا تو امریکہ کی مبینہ 'وزارتِ انصاف' نے ان پر لگائے گئے الزامات میں سے ایک بڑا الزام واپس لے لیا۔ [۔۔۔] / استکباریوں کا کیس کمزور ہو گیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکہ کے انسداد منشیات کے ایجنٹوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو نیویارک کی عدالت میں پیش کیا تو امریکہ کی مبینہ 'وزارتِ انصاف' نے ان پر لگائے گئے الزامات میں سے ایک بڑا الزام واپس لے لیا؛ اور وہ الزام یہ تھا کہ وہ منشیات کے 'لاس سولس' (Los Soles) نامی کارٹیل کے سربراہ ہیں۔ البتہ، منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق دیگر الزامات فی الحال برقرار ہیں۔

رپورٹ کا خلاصہ:

امریکی حکومت نے اب اعتراف کیا ہے کہ وہ مادورو کو 'لاس سولس' کارٹیل کا باضابطہ رہنما قرار نہیں دے گی۔

نئی قانونی درخواست میں، اس کارٹیل کا نام صرف دو بار آیا ہے، اور اس میں مادورو کی سرکردگی کا ذکر نہیں ہے۔

نئے الزامات زیادہ تر وینزویلا کی اشرافیہ کے درمیان "بدعنوانی کی ثقافت اور اسمگلروں کی حمایت" پر مرکوز ہیں۔

بین الاقوامی منشیات کے ماہرین نے اس بات پر سوال اٹھایا ہے کہ آیا 'لاس سولیس' نامی کوئی منظم کارٹیل سرے سے موجود بھی ہے یا نہیں!

اقوامِ متحدہ اور امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (DEA) کی 2025 کی رپورٹوں میں بھی 'لاس سولیس' کارٹیل کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

اگرچہ یہ بہت اہم تبدیلی ہے، مادورو پر منی لانڈرنگ اور مسلح گروہوں کے ساتھ تعاون جیسے دیگر الزامات اب بھی موجود ہیں۔

امریکہ کو نکولس مادورو پر 'لاس سولیس' کارٹیل' کی سرکردگی کا سب سے اہم الزام واپس لینا پڑا

ٹرمپی امریکہ کا کیس کمزور پڑ گیا - تبصرہ

صدر مادورو پر لگا سب سے بڑا الزام واپس لیا جا چکا ہے، اور یہ پیشرفت بہت اہم ہے اور اس سے وینزویلا کے قانونی صدر کے اغوا کے حوالے سے امریکہ کی پوزیشن کافی کمزور ہو گئی ہے؛ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ امریکی اقدام ٹرمپ انتظامیہ کے لئے ایک تاریخی رسوائی میں بدل جائے۔

پہلا قدم پہلے ہی اٹھ چکا: 'لاس سولس' کارٹیل کا بنیادی الزام پہلے ہی واپس لے لیا گیا ہے۔ یہ ایک ابتدائی اور بہت بنیادی قانونی پسپائی ہے۔

اس اقدام سے یہ منطقی سوال کھڑا ہوتا ہے کہ "اگر یہ اہم الزام غلط تھا، تو کیا کیا بقیہ الزامات درست ہیں؟"۔ امریکہ کے اندر ہی ـ ایک رپورٹ کے مطابق 2025 میں صرف پہلے سو دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف 186 سے زیادہ قانونی چارہ جوئیاں کی گئی ہیں!

اگر یہی سلسلہ جاری رہا اور الزامات یکے بعد دیگرے خارج ہوئے، اور مقدمہ بالآخر خارج یا ناکام ہؤا تو:

- قانونی رسوائی: اتنے سنگین الزامات لگانے اور پھر انہیں ثابت نہ کر پانے کا مطلب عدالتی نظام کی بہت بڑی ناکامی ہوگی۔

- بین الاقوامی سفارتی رسوائی: دوسرے ممالک اور اداروں کے سامنے امریکہ کا مؤقف شدت سے کمزور پڑ جائے گا۔

- سیاسی رسوائی: ٹرمپ کے اپنے جماعتی مخالفین اور MAGA کے اندر کے ناقدین، نیز ڈیموکریٹ پارٹی سمیت سیاسی مخالفین اسے ایک بڑی سیاسی ناکامی اور ملک کے وقت اور وسائل کا ضیاع قرار دیں گے اور اس کو ٹرمپ کے مواخذے کی بنیاد بنانے کی کوشش کی بنیاد بنائیں گے، بالخصوص اگر اگلے درمیانی انتخابات میں ریپبلکنز مطلوبہ نشستیں حاصل کرنے میں ناکام ہو جائیں۔

بہرصورت یہ خبر اسی سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ جس طرح ایک مضبوط دیوار میں پہلی اینٹ کا ہلنا یا نکلنا پوری دیوار کے ڈھانچے پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے، اسی طرح اس مرکزی الزام کے واپس لئے جانے سے پورے قانونی کیس کی بنیاد ہل گئی ہے۔ اب یہ ٹرمپ انتظامیہ پر منحصر ہے کہ وہ بقیہ الزامات کو کتنی مضبوطی سے ثابت کر پاتی ہے۔ اگر ثابت نہ کر پائی، تو ایک خودمختار اور اقوام متحدہ کے رکن کے صدر کے اغوا کا یہ اقدام ـ جو بذات خود ایک رسوا کن اقدام ہے ـ متزلزل امریکی سلطنت کے لئے ایک نئی "تاریخی رسوائی"  ثابت ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha