اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،جنوبی یمن میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ گروہوں کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں عدن سمیت مختلف علاقوں میں سیاسی اور عسکری طاقت کا مظاہرہ بڑھتا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ عسکری تنظیم “شورائے انتقالی جنوبی یمن” نے عدن شہر میں اپنے حامیوں کو بڑی ریلی کے لیے متحرک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ریلی چار مئی کو منعقد کی جائے گی اور اس کے بعد پانچ مئی کو حضرموت، چھ مئی کو المہرہ اور سات مئی کو جزیرہ سقطری میں بھی اسی نوعیت کی سرگرمیاں ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یہ تنظیم جنوبی یمن کے مختلف حصوں میں خود کو عوامی نمائندہ قرار دیتی ہے، جبکہ اس کا سعودی حمایت یافتہ حکومت کے ساتھ طویل عرصے سے اختلاف جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تنظیم پہلے بھی باضابطہ طور پر تحلیل ہونے کا اعلان کر چکی تھی، تاہم اس کے باوجود اس کی سیاسی و عسکری سرگرمیاں جاری رہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عدن میں مجوزہ ریلی اور حالیہ سرگرمیاں اس بات کی علامت ہیں کہ جنوبی یمن میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ گروہوں کے درمیان اثر و رسوخ کی کشمکش دوبارہ تیز ہو رہی ہے۔
یمنی صحافی فواد مساعد کے مطابق اس گروہ کی سرگرمیوں کا جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرکاری سطح پر اس کے خلاف سخت کارروائی میں کمزوری موجود ہے۔ ان کے مطابق بعض عناصر مختلف مقامی اداروں میں موجود رہ کر اس گروہ کی حمایت کرتے ہیں جس سے اس کی سرگرمیوں کو تقویت ملتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ بعض دیگر ملیشیا گروہ سرکاری ڈھانچے میں ضم ہو چکے ہیں، تاہم شورائے انتقالی سے وابستہ عناصر اب بھی محدود سطح پر سرگرم ہیں، لیکن مجموعی طور پر اس کی سابقہ طاقت میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق جنوبی یمن کی یہ صورتحال خطے میں طاقت کے توازن اور سیاسی مستقبل کے حوالے سے مزید پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ