23 اپریل 2026 - 12:26
مآخذ: ابنا
آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر و رسوخ برقرار، عالمی معیشت دباؤ میں

امریکی اخبار نیو یارک نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران اب بھی آبناے پر نمایاں کنٹرول رکھتا ہے، جو دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔

اہل نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار نیو یارک نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران اب بھی آبناے پر نمایاں کنٹرول رکھتا ہے، جو دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔

رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری آٹھ ہفتوں کی کشیدگی کے باوجود ایران اس اہم آبی راستے پر اپنی گرفت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2 مارچ سے حالیہ دنوں تک ایران سے منسلک 308 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو اوسطاً روزانہ چھ جہاز بنتے ہیں۔

اخبار نے یہ بھی بتایا کہ اسی عرصے میں صرف 90 ایسے جہاز گزر سکے جن کا ایران سے کوئی تعلق نہیں تھا، جو روزانہ اوسطاً تین جہاز بنتے ہیں۔ اس واضح فرق کو رپورٹ میں "حیران کن" قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ غیر متعلقہ جہازوں کو گزرنے کے لیے ایران کی منظوری درکار ہوتی ہے۔

مزید برآں، رپورٹ میں کہا گیا کہ جنگ کے باعث اس اہم راستے پر معمول کی آمدورفت میں شدید کمی آئی ہے، جہاں پہلے روزانہ تقریباً 130 جہاز گزرتے تھے، اب یہ تعداد کم ہو کر صرف 8 رہ گئی ہے۔

نیو یارک کے مطابق، حالیہ حملوں، خصوصاً دو تجارتی جہازوں پر حملے کے بعد، شپنگ ٹریفک تقریباً رک چکی ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران اس صورتحال کو ایک معاشی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور کئی ممالک میں مہنگائی بڑھی ہے۔

ماہرین کے مطابق، آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول نہ صرف عالمی تجارت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے بلکہ یہ جاری تنازع میں ایک اہم اسٹریٹجک برتری بھی فراہم کرتا ہے، جسے ایران ممکنہ مذاکرات میں بطور دباؤ استعمال کر سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha