اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان حزبالله نے اسرائیل اور لبنانی حکومت دونوں کو سخت پیغام دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک اسرائیل مکمل طور پر لبنان سے انخلا نہیں کرتا اور اپنی تمام فوجی کارروائیاں بند نہیں کرتا۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے مسلسل بمباری اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں حزبالله نے نئی عسکری کارروائیاں کیں اور اسرائیلی پوزیشنز کو نشانہ بنایا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں جنگ بندی عملاً غیر مؤثر ہو چکی ہے۔
لبنانی میڈیا کے مطابق حزبالله نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکہ اور لبنانی حکومت کو بھی یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ دباؤ یا دھمکیوں کے تحت کسی قسم کی مفاہمت ممکن نہیں۔ تنظیم کے مطابق اگر اسرائیل نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو مزاحمت بھی اسی شدت سے جواب دیتی رہے گی۔
ادھر لبنان کی داخلی سیاست میں بھی اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ ولید جنبلاط نے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لبنان کو واضح حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، جبکہ نبیہ بری اب بھی براہ راست مذاکرات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
میدانی صورتحال کے مطابق جنوبی لبنان میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں راکٹ حملوں، ڈرون کارروائیوں اور زمینی جھڑپوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے بھی سرحدی علاقوں میں سکیورٹی واقعات میں اضافے اور غیر یقینی صورتحال کا اعتراف کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق لبنان کی صورتحال نہ صرف مقامی بلکہ علاقائی سطح پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔ اس تناظر میں جنوبی لبنان کا محاذ کسی بڑے تصادم کی طرف بھی جا سکتا ہے اگر کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی۔
آپ کا تبصرہ