اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے ممکنہ طور پر جنگ کے دوبارہ آغاز کے پیشِ نظر نئی حکمت عملی اور غیر متوقع اقدامات کی تیاری کر لی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ جنگ بندی کے اختتام کے قریب پہنچنے اور امریکہ کی جانب سے مبینہ بحری محاصرہ و دیگر مطالبات کے باعث مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے، جس کے بعد ایران نے مکمل عسکری تیاری کر رکھی ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران نے ممکنہ جنگ کو مدنظر رکھتے ہوئے فوجی نقل و حرکت اور اہداف کی نئی فہرستیں بھی تیار کی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ تصادم کی صورت میں ایران فوری اور سخت ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم اس قسم کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات اکثر نفسیاتی دباؤ اور دفاعی حکمت عملی کا حصہ بھی ہوتے ہیں، جن کا مقصد مخالف فریق کو پیغام دینا ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے اور کسی بھی قسم کی کشیدگی میں اضافہ بڑے پیمانے پر اثرات مرتب کر سکتا ہے، اس لیے سفارتی حل کی کوششیں بدستور اہم ہیں۔
آپ کا تبصرہ