2 اپریل 2026 - 10:27
ایرانی بے چینی سے امریکیوں کے زمینی حملے کے منتظر ہیں، لیکن کیوں؟ + ویڈیو

عوامل بہت ہیں جو ایرانیوں کے اس انتظار کا سبب بنتے ہیں جیسے ایرانیوں کی عظیم فوج، جغرافیے سے مکمل آشنائی اور زمینی جنگ میں ناقابل انکار بالادستی؛ اور پھر اگر جنگ ہوتی ہے تو ایران کسی مقام پر قبضے کے بجائے اپنی توجہ جارحوں کے قتل عام پر مرکوز کرے گا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ان دنوں دہشت گردی امریکی فوج کی طرف سے زمینی جنگ کی تشہیر ہو رہی ہے؛ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ جزیرہ خارک میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور کچھ کہتے ہیں کہ امریکہ ابتداء میں عرب ممالک کی زمینی فوج اور کچھ علیحدگی پسند دہشت گردوں کو ایران کی سرحدوں پر لائے گا؛ لیکن منظرنامہ کچھ بھی ہو زمینی حملے کی صورت میں ایران کی بالادستی امریکیوں کو تاریخی اور ابد تک یاد رہنے والے المیے سے دوچار کرے گی۔

ایران کے پاس ایسا کیا ہے جو اسے بالادست بناتی ہے؟، دیکھتے ہیں:

1۔ جغرافیائی عامل:

پہلا عامل ایرانی افواج کا جغرافیہ ہے۔ ایرانی افواج ـ بالخصوص بری اور بحری افواج کے کمانڈوز ـ پورے بری اور بحری جغرافیے کو ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح پہچانتے ہیں۔ فطری رکاوٹوں سے آگاہ ہیں اور خطرات کو جانتی ہیں۔ سامان رسد اور سپلائی لائن کے حوالے سے کسی مشکل سے دوچار نہيں ہیں۔

ان کے مقابلے میں امریکی افواج ایران اور خطے سے ناواقف ہیں، آب و ہوا کی صورت حال ان کے لئے انجانی ہے، ایرانی جغرافیہ شاید انہیں نقشے پر پڑھایا گیا ہو لیکن عملی طور پر میدانی صورت حال سے بے خبر ہيں، اور انہیں سامان رسد اور پشت پناہی کی ضرورت ہے جو دستیاب نہیں ہے اور اگر اس کا انتظام کیا بھی جائے تو سوال یہ ہوگا کہ کیا ایرانی افواج ان کی سپلائی لائن کو محفوظ رہنے دیں گی؟

2۔ زمینی جنگ میں فضائی برتری کا سہارا لینا ممکن نہیں

دشمن کو اپنی فضائی برتری پر ناز تھا لیکن پہلی بات یہ ہے کہ ایرانی فضائی دفاعی نظام نے ان کی یہ برتری چیلنج کر لی، ایف-35، ایف-15، ایف-16، ایف-18، آواکس طیاروں، ری فیولنگ ایئر ٹینکرز اور ڈیڑھ سو امریکی ڈرون طیاروں، لاتعداد کروز اور بیلسٹک میزائلوں وغیرہ کو مارا گرایا ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ زمینی جنگ میں فضائیہ کا کردار بہت محدود ہوتا ہے اور اپنی فوج بھی فضائی حملوں کا نشانہ بن سکتی ہے۔

یعنی یہ کہ زمینی حملہ دشمن کی برتری کو ختم کر دیتا ہے اور یہ وہ زمانہ ہے کہ جنگی پوزیشنیں، مورچے، گھاتیں، افرادی قوت جیسی صلاحیتیں کام آتی ہیں اور فنی برتری مغلوب ہوجاتی ہے۔

3۔ افرادی قوت

ایران پر زمینی جارحیت کے لئے امریکی نوجوانوں کی فوج میں بھرتی بھی مشکل سے دوچار ہوئی ہے اور امریکی ذرائع کے مطابق فوج میں بھرتی سے انکار کی شرح ڈیڑھ ہزار فیصد تک پہنچی ہے؛ چنانچہ اگر امریکہ عربوں پر دباؤ ڈال کر کچھ فوجی ان سے لے لے اور کچھ دہشت گردوں کو ساتھ ملا دے تو پھر بھی ان کی مجموعی تعداد 5000 سے نہیں بڑھے گی۔ حالانکہ ایران کی مسلح افواج کی افرادی قوت کئی ملین تک پہنچتی ہے۔

4۔ بھاری ہتھیار

امریکی فوج کو درپیش بحرانوں میں سے ایک، توپخانے، ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں کی قلت ہے، لیکن ایران صرف ارادہ کرکے بھاری ہتھیاروں کو میدان میں لا سکتا ہے، اور ایران بھی برتر قوت ہے۔

5۔ جنگی اہداف

اگر امریکی فوج ایرانی جزائر پر قبضہ کرنا چاہے تو یہ بہت سخت ہدف ہوگا، کیونکہ ایرانی افواج پہلے سے چوکس ہیں۔ جبکہ ایرانیوں کا ہدف کسی مقام پر قبضہ کرنا یا کسی جگہ کو آزاد کرانا نہیں ہے بلکہ ان کا واحد مقصد صرف اور صرف جارح اور دہشت گرد امریکی فوجیوں کا قتل عام ہے جس کے لئے ان کے پاس خاصے حیرت انگیز ہتھیار ہیں جنہیں زمینی حملے کے بعد دنیا پہچان لے گی۔

6۔ جانی پہچانی صلاحیتیں بھی موجود ہی ہیں

ایران نے اب تک میزائل اور ڈرون استعمال کئے ہیں جو بدستور کام کر رہے ہیں اور یقینا یہ ہتھیار زمینی حملے سے نمٹنے میں بھی اچھی طرح کام آتے ہیں؛ خاص طور پر کامیکازے ڈرونز اور antipersonnel کواڈکاپٹرز جو کم خرچ بالانشیں کا مصداق ہیں اور دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب الجزیرہ ٹی وی چینل کے نامہ نگار نے وزیر خارجہ سے پوچھا کہ "امریکہ زمینی حملہ کرنا چاہتے ہیں، کیا آپ ڈرتے نہیں ہیں؟" تو انھوں نے مسکرا کر پورے اعتماد و اطمینان سے کہا:"نہیں، ہم نہيں ڈرتے، ہم تو ان کے منتظر ہیں"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: علی رضائی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

امریکی فوج کی زمینی جارحیت کے لئے ایران کی بری فوج کے کچھ انتظامات 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha