بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی ذرائع نے لکھا کہ 13.2 ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والا یوایس ایس جیرالڈفورڈ طیارہ بردار جہاز جو جنگِ رمضان کے شروع ہونے کے چند ہی روز بعد ـ بحیرہ عرب میں پہنچنے سے پہلے، بحیرہ احمر سے بھاگ گیا، صرف لیٹرینوں کی [ارادی] بندش اور 30 گھنٹوں تک جاری رہنے والی آتشزدگی سے دوچار نہیں ہؤا بلکہ اسے دوسرے مسائل کا سامنا بھی ہے۔
امریکی بحریہ کا جدید ترین جہاز ہے لیکن پینٹاگون سے فاش ہونے والی خبریں کے مطابق تحویل کے 9 سال بعد بھی اس کی اثرگذآری کے سلسلے میں کافی شافی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ یہ جہاز طیارہ بردار اور بموں اور میزائلوں کے ایلویٹرز پر مشتمل ہے۔
اس جہاز میں چارپائیوں کی قلت ہے، اس کے ملاح اسٹینڈرڈ سے 9 مہینے زیادہ عرصے تک مشن پر رہے ہیں جس کی وجہ سے اسے مزید دباؤ کا سامنا ہے۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی مہنگا جہاز طیاروں کی لینڈنگ کے حوالے سے غیر معیاری ہو گیا ہے، اور اس کا ریڈار بھی قابل تائید نہیں ہے! اس جہاز میں گوداموں سے عرشے پر ہتھیاروں کی منتقل میں خلل واقع ہؤا ہے، اور دشمن کے حملے کی صورت میں بہت زد پذیر ہے۔
گوکہ اس جہاز کے لئے بیان کئے جانے والے مسائل زیادہ ہیں لیکن یہ قابل قبول نہیں ہے کہ امریکیوں نے ان تمام مسائل کا جائزہ لئے بغیر ایران کے ساتھ جنگ میں روانہ کیا تھا چنانچہ یہ امکان بہت قوی ہے کہ اس کو بحیرہ احمر میں ایک 'ایرانی ضرب' پڑی ہے جس کی وجہ سے یہ 30 گھنٹوں تک آتشزدگی کا شکار رہا ہے، اور اسی وجہ سے اس کو مذکورہ بالا مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اور لگتا ہے کہ یہ جہاز بہت جلد تاریخ کا حصہ بن رہا ہے؛ سب سے نیا کیریئر سب سے پہلے ریٹائر ہو رہا ہے گویا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ