28 فروری 2026 - 03:24
جنگی جہاز 'جیرالڈ فورڈ' کے ملاحوں کا ایران سے جنگ بچنے کے لئے عجیب ہتھکنڈہ

مقبوضہ فلسطینِ ساحلوں پر حال ہی میں لنگر انداز ہونے والے جنگی جہاز یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ کا عملہ اپنی طویل ڈیوٹی سے تنگ آ کر ناراضگی ظاہر کرنے کا ایک دلچسپ طریقہ نکالا ہے / یہ نہیں کہا گیا کہ جیرالڈفورڈ کا عملہ ایرانی میزائلوں کا سامنا کرنے کے روادار نہیں ہیں!

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، عسکری امور کے تجزیہ کار اور امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل ڈگلس میک گریگور نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جیرالڈ فورڈ طیارہ بردار جہاز کے ملاح اپنی ڈیوٹی کی طوالت سے ناخوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ میک گریگور نے البتہ اس بات کی طرف کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے کہ جیرالڈ فورڈ کا عملہ ایرانی افواج کا مقابلہ کرنے سے بچنے کے لئے یہ ہتھکنڈے آزما رہے ہیں!

میک گریگور کا کہنا ہے کہ بحریہ میں ان کے ذرائع نے انہیں بتایا ہے کہ کچھ ملاح اپنی بنیانوں کو ٹوائلٹ میں ڈال دیتے ہیں تاکہ گندے پانی کی نکاسی کا نظام خراب ہو جائے۔

یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ، جو دنیا کا سب سے جدید اور بڑا طیارہ بردار جہاز ہے، 24 جون 2025 کو ورجینیا کے نورفولک اسٹیشن (Naval Station Norfolk) سے روانہ ہوا تھا۔ اس کا بنیادی مشن بحیرہ روم میں معمول کا گشت کرنا تھا، جو عموماً چھ سے سات ماہ تک جاری رہتا ہے۔

لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر اس مشن میں کئی بار توسیع ہو چکی ہے اور اب اس کا مشن ویتنام کی جنگ کے بعد کسی امریکی طیارہ بردار جہاز کا طویل ترین مشن بن چکا ہے۔

ڈیوٹی میں یہ غیر معمولی توسیع نے جہاز کے عملے پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ 5000 سے زائد ملاح آٹھ ماہ سے زائد عرصے سے اپنے گھر والوں سے دور ہیں۔ وہ بہت سی اہم تقریبات جیسے سالگرہ، شادی یا یہاں تک کہ جنازوں میں بھی شرکت نہیں کر سکے ہیں۔ اس صورت حال کی وجہ سے عملے میں نفسیاتی تھکن نمودار ہوئی ہے اور ان کے حوصلے شدت سے پست ہوئے ہیں۔

میک گریگور نے بتایا کہ جہاز کا عملہ اس بات پر سخت پریشان ہے کہ وہ "دس ماہ سے زائد عرصے سے" سمندر میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے جہاز کو دوبارہ تعینات کرنے کا مطلب ہو گا کہ ان کی ڈیوٹی ایک سال سے بھی زیادہ طویل ہو جائے گی۔

کرنل میک گریگور نے البتہ اس بات کی طرف کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے کہ جیرالڈ فورڈ کا عملہ ایرانی افواج کا مقابلہ کرنے سے بچنے کے لئے یہ ہتھکنڈے آزما رہے ہیں! جبکہ کئی امریکی اور غیر امریکی تجزیہ کاروں نے مذکورہ جہاز کے عملے کے عجیب احتجاج کو ایران کے ساتھ جنگ میں شرکت سے بچنے کا بہانہ قرار دیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha