14 مارچ 2026 - 21:14
خطے میں امریکی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملے جاری ہے، سپاہ پاسداران / بنکر بسٹر وار ہیڈز کا استعمال

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے محکمۂ تعلقات عامہ نے اعلان کیا کہ خطے میں تمام تر امریکی دہشت گردوں کے فوجی اڈے سپاہ پاسداران کی بحریہ کے میزائلوں اور ڈرونز کے بھاری حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں / ایران نے خطے میں امریکی اڈوں کو بنکر بسٹر وارہیڈز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

 بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے محکمۂ تعلقات عامہ نے اعلان کیا کہ خطے میں تمام تر امریکی دہشت گردوں کے فوجی اڈے سپاہ پاسداران کی بحریہ کے میزائلوں اور ڈرونز کے بھاری حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے محکمۂ تعلقات عامہ کے بیان کا متن:

سپاہ پاسداران کی بحریہ نے آج علی الصبح معرکۂ وعدہ صادق-4 کی انچاسویں لہر کے دائرے میں تین ڈرون اور میزائل حملے ـ کوڈنیم یاسرسول اللہؐ کے ساتھ ـ انجام پائے اور خطے میں دہشت گرد امریکیوں کے تمام اڈوں کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا۔

ان کامیاب حملوں میں ایران کی میزائل اور ڈرون یونٹوں نے پیٹریاٹ سسٹمز کے ریڈارز، کنٹرول ٹاورز، الظفرہ امریکی اڈے کے ایئر ڈیفنس کے مختلف آشیانوں کو بیلسٹک میزائلوں اور بھاری کامیکازے ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

بحرین کے شیخ عیسیٰ امریکی اڈے کو مختلف النوع میزائلوں اور ڈرونز کا نشانہ بنایا گیا اور پیشگی الرٹ دینے والے ریڈارز، طیاروں کے آشیانوں، مرکزی ریمپ اور طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ایندھن کے ذخائر تباہ اور آگ کے شعلوں میں جل کر راکھ ہو گئے۔

امارات میں العدیری امریکی اڈے میں ہیلی کاپٹر کے ایک اڈے کو تباہ کن میزائل اور ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اس اڈے میں امریکی دہشت گرد فوج کی پناہ گاہوں کو بھی تباہ کیا گیا۔

آبنائے ہرمز سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے انیٹلی جنٹ کنٹرول میں ہے اور آبنائے ہرمز سے دشمنوں اور ان سے وابستہ ممالک اور کمپنیوں یے آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بدستور ممنوع ہے۔ اگر کسی بھی آئل ٹینکر یا تجارتی جہاز نے خلاف ورزی کی کوشش کی تو نشانہ بنے گا۔

ادھر موصولہ اطلاعات کے مطابق، ایران نے خطے میں امریکی اڈوں کو بنکر بسٹر وارہیڈز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان وارہیڈز سے خطے میں امریکی اڈوں میں واقع کمانڈ اینڈ کنٹرول کے مراکز کو تباہ کیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha