بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسکاٹ رٹر نے کہا:
نو کروڑ ایرانی عوام اس طرح سے اکٹھے ہوئے ہیں جس کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا۔
بات یہ ہے کہ اسرائیل جنگ ہار گیا۔
یہ جنگ [ایران میں] رجیم چینج کے لئے تھی۔ اسرائیل نے پہلے ہی امریکہ پر شرط عائد کی تھی کہ تمہیں اس جنگ کا آغاز نہیں کرنا چاہئے، مگر یہ کہ اس نتیجہ یقینی بنایا جا چکا ہو، نتیجہ یہ فرض کیا گیا تھا کہ ایران کا حکومتی نظام ختم ہوجائے، لیکن اب اس مقصد کا حصول ناممکن ہے۔
چنانچہ واحد واقعہ جو رونما ہو رہا ہے یہ ہے کہ اسرائیل منہدم ہو جائے گا۔ یہ واحد واقعہ ہے جو رونما ہوگا۔
ایران اسرائیل کے مقابلے میں بہت بڑا ہے۔
ایران اسرائیل کے مقابلے میں بہت بڑا نقصان برداشت کر سکتا ہے۔
اسرائیل اس وقت زیر و زبر ہو رہا ہے درہم برہم ہو رہا ہے۔
اب ہم پلٹتے ہیں اس مسئلے کی طرف کہ اسرائیل کیا چاہتا ہے؟ وہ بھاگنے کا راستہ چاہتے ہیں۔
اگر اسرائیلی یہ سوچ رہے ہوتے کہ وہ کامیاب ہو رہے ہیں، تو یقینا وہ بھاگنے کا راستہ تلاش نہ کرتے۔
وہ کامیاب نہیں ہو رہے ہیں۔
وہ جانتے ہیں کہ کامیاب نہیں ہو رہے ہیں۔
وہ جانتے ہیں کہ کامیاب نہیں ہونگے۔
بالکل یہی مسئلہ امریکہ ـ اور ڈونلڈ ٹرمپ ـ کو بھی درپیش ہے۔
میرا مطلب یہ ہے کہ پھر بھی، اسرائیل کو بھی جاننا چاہئے کہ اگر اس جنگ میں شدت آتی ہے تو کیا ہوگا؟ اگر ایرانی اردن سے گذرنے والی تیل کی پائپ لائن ـ جیہان پائپ لائن ـ کو دھماکے سے اڑانے کا فیصلہ کریں؟
اسرائیل کا 40 فیصد تیل اس پائپ لائن سے آتا ہے۔
جو کچھ ہو کر رہے گا یہ ہے کہ ان کا تیل ختم ہوجائے گا۔
آپ جانتے ہیں، یہ بہت چھوٹی سی ریاست ہے، اس کے پاس اسٹراٹیجک ذخائر نہیں ہیں۔
تو اسرائیل کا کام تمام ہے۔
وہ خود بھی جانتے ہیں۔
کل رات تل ابیب کی بجلی بند ہو گئی۔ یہ ان ایرانی میزائلوں کی وجہ سے ہؤا جو اسرائیلیوں کی طاقت کو کم کر رہے ہیں؛ اور ان کے پاس کوئی صلاحیت نہیں ہے۔
ایرانیوں نے بجلی گھر کو اڑا دیا۔ انہوں نے بنیادی ڈھانچے پر حملے شروع کر دیئے ہیں۔
ایرانیوں نے اسرائیلی قیادت کو نشانہ بنایا ہے۔
اس وقت کوئی بھی چیز اسرائیل کا دفاع نہیں کر سکتی۔
ایران اپنے دباؤ کی سطح میں اضافہ کر رہا ہے، اور جتنا کہ اپنا دباؤ بڑھائے گا، اسرائیل کے مزید بنیادی ڈھانچے تباہ ہوجائیں گے؛ اور اسرائیل بڑا نہیں ہے، اس کے پاس تزویراتی ذخائر نہیں ہیں۔ اسرائیل کے پاس کوئی دوسرا اور تیسرا پلان نہیں ہے۔
جب آپ اپنے بنیادی ڈھانچوں کو کھو دیتے ہیں، تو ایک "نیشن-گورنمنٹ" کی حیثیت سے آپ کا کام تمام ہے؛ اور اسرائیل خود بھی اس حقیقت سے واقف ہے۔
اگر یہ جنگ جاری رہے، تو جو کچھ آپ اگلے ہفتے کے دوران دیکھیں گے، وہ یہ ہے کہ اسرائیل مزید ایک جدید اور فعال ریاست کے طور پر قائم نہیں رہ سکے گا؛ اور اس کے بعد اچانک لاکھوں اسرائیلی اس حقیقت کا سامنا کریں گے کہ نہ کھانے پینے کی اشیاء ہیں، نہ پانی ہے، نہ توانائی اور نہ ہی زندگی؛ اور وہ اس ریاست کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ اور یہ اسرائیلی ریاست کا حتمی انجام ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ