بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے درمیان تعلقات کو اکثر سیاسی تصادم، ایٹمی بحران یا علاقائی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ تاہم، یہ مضمون یہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ مقابلہ محض دو ممالک کے درمیان طاقت پر مبنی کلاسیکی جھگڑا یا خاص قسم کی جنگ نہیں ہے، بلکہ اس کے شناختی اور تہذیبی جہات بھی ہیں۔ یہ مضمون ساختی حقیقت پسندی اور شناخت پر مبنی نظریات کے درمیان ایک امتزاجی نقطہ نظر سے استفادہ کرتے ہوئے، "تہذیبی ـ تکنیکی تقابل" کے تصور کو ایک تجزیاتی فریم ورک کے طور پر تجویز کرتا ہے۔ اس فریم ورک میں، ریاست ہائے متحدہ امریکہ "نیٹ ورک پر مبنی تکنیکی بالادستی" (Network-based Hegemony) کا ترجمان ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران "مستحکم مزاحمتی ـ تہذیبی شناخت" کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ مقابلہ جیو پولیٹیکل مسابقت، بیانیوں کی جنگ، غیر متناسب تسدید (Asymmetrical Deterrence) اور جائز (Legitimate World Order) عالمی ترتیب کی تعریف پر جھگڑے کا ایک آمیزہ ہے۔
ایسے حساس موضوع کا تعارف پیش کرنے کے لئے بہتر یہ ہے کہ متن نعروں اور محوری یا قدریاتی دو قطبیت (Axiological Bipolarity) سے دوری اختیار کرے اور ایک تجزیاتی، تاریخی اور "منظرنامے پر مبنی" فریم ورک (Scenario-based) کے قریب آئے۔ لہٰذا، اس علمی اور تجزیاتی تعارف میں تین کام انجام دینے چاہئیں: مسئلے کی تعریف، اسے تاریخی تناظر میں رکھنا، اور مستقبل کے بارے میں سوال یا مفروضہ پیش کرنا۔
تعارف
دنیا جیو پولیٹیکل کشیدگی کے ایک نئے مرحلے کے دہانے پر ہے؛ ایک ایسا مرحلہ جہاں علاقائی مسابقت تیزی سے عالمی تنازعات میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے درمیان مقابلہ محض ایک دو طرفہ اختلاف نہیں ہے، بلکہ بین الاقوامی نظام میں طاقت کی نئی ترتیب کا عکاس اور سرد جنگ کے بعد کے یک قطبی نظام سے ایک زیادہ پیچیدہ اور زیادہ کثیر پرتوں پر مشتمل پیچیدہ عالمی ترتیب کی طرف بتدریج منتقلی کی علامت ہے۔
سنہ 1979 میں ایران میں انقلاب کے بعد سے، تہران اور واشنگٹن کے تعلقات 'ساختی دشمنی' (Structural Enmity) کے ایک چکر میں داخل ہو گئے۔ یہ وہ چکر ہے جو مختلف مقامات پر سلامتی کے بحرانوں، اقتصادی پابندیوں، پراکسی (اور نیابتی) جنگوں اور براہ راست یا بالواسطہ فوجی کشیدگیوں کی صورت میں ابھرتا رہا ہے۔ سنہ 2018 میں امریکہ کی ایران کے ساتھ چھ ملکوں کے جوہری معاہدے سے علیحدگی اور "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی میں شدت آنا، اس تصادم کا ایک نیا مرحلہ تھا جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ کے علاقے بلکہ عالمی طاقت کے توازن، بحری سلامتی اور بین الاقوامی اتحادوں کے ڈھانچے پر بھی پڑے۔
آج یہ تقابل (اور مقابلہ) ایک وسیع تر سیاق و سباق میں معنی رکھتا ہے: ایک طرف اقتصادی، تکنیکی اور فوجی برتری کو برقرار رکھنے کی بالادستانہ حکمت عملیاں (Hegemonic strategies)؛ اور دوسری طرف علاقائی طاقتوں کی اپنی پوزیشن مضبوط کرنے، اپنے کردار کی نئی تعریف کرنے اور اپنی تزویراتی آزادی کے دفاع کی کوشش۔ یہ جنگ محض فوجی نہیں ہے؛ بلکہ یہ اقتصادی جنگ، تکنیکی مسابقت، سائبر آپریشنز، بیانیوں کی جنگ اور نئے جیو پولیٹیکل بلاکس کی تشکیل کا ایک مجموعہ ہے۔ اس لئے اس کے مستقبل کو صرف فوجی اشاریوں سے نہیں ناپا جا سکتا، بلکہ اسے عالمی طاقت کے ڈھانچے کی تبدیلی کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔
بنیادی سوال یہ ہے: کیا ایران اور امریکہ کا تقابل ایک وسیع اور براہ راست جنگ اور تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے، یا یہ ایک کنٹرول شدہ تنازع اور فرسائشی تصادم (War of attrition) کی شکل میں جاری رہے گا؟ اور دونوں صورتوں میں، علاقائی نظام اور عالمی طاقت کے ڈھانچے کے مستقبل پر اس طرح کے عمل کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
یہ مضمون اس تصادم کی تاریخی جڑوں، موجودہ پیش رفت اور مستقبل کے ممکنہ منظرناموں کا جائزہ لے کر، ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ کے امکان، حدود اور اثرات کی ایک تجزیاتی تصویر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسی جنگ جو اگر ہوتی ہے تو وہ محض ایک دو طرفہ تنازع تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ پرانی بین الاقوامی ترتیب کی نئی ترتیب میں منتقلی میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
ایران اور امریکہ کے باہمی تصادم کی تاریخی جڑیں
ایران اور امریکہ کے تصادم کی تاریخی جڑوں کا تجزیہ کرنے کے لئے، عارضی اور وقتی واقعات کی سطح سے آگے بڑھ کر اس تعلق کی گہری تاریخی، نظریاتی، جیو پولیٹیکل اور نفسیاتی تہوں پر توجہ دینا ہوگی۔ جو چیز آج "ساختی دشمنی" کے نام سے جانی جاتی ہے، وہ ایک تدریجی اور کثیر المراحل عمل کی پیداوار ہے۔
1۔ تعاون اور اسٹریٹجک انحصار کا دور (1953-1979)
دونوں ممالک کے تعلقات میں پہلا اہم موڑ 1953 میں ڈاکٹر محمد مصدق کی حکومت کے خلاف بغاوت ہے۔ یہ وہ واقعہ تھا جو امریکہ اور برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں کے براہ راست مداخلت کی وجہ سے رونما ہؤا اور محمد رضا شاہ کی مطلق العنان طاقت کی بحالی پر منتج ہؤا۔ اس کے بعد سے، ایران سرد جنگ کے فریم ورک میں سوویت یونین کو روکنے کی پالیسی کے ستونوں میں سے ایک بن گیا۔ فوجی، سیکورٹی اور اقتصادی تعاون کو فروغ ملا اور واشنگٹن نے تہران کو مشرق وسطیٰ میں اپنا کلیدی اتحادی قرار دیا۔ لیکن سماجی سطح پر، اس قربت کے ساتھ ایک قسم کے "انحصار (وابستگی)" اور "غیر ملکی مداخلت" کی ذہنیت پروان چڑھی۔ یہ وہ ذہنیت تھی جو بعد میں 1979 کے انقلاب کے امریکہ مخالف بیانیے کی بنیادوں میں سے ایک بن گئی۔
2۔ نظریاتی انقطاع اور یرغمالیوں کا بحران (1979-1981)
سنہ 1979 میں ایران میں اسلامی انقلاب کی فتح نے سابقہ نظام کا تختہ الٹ دیا۔ نیا نظام تسلط مخالف اور "عالمی استکبار" کی نفی سے جنم لینے والے بیانیے (اور مکتب) کی بنیاد پر تشکیل پایا، وہ استکباری نظام ـ جس کی علامت رسمی زبان میں ـ امریکہ ہی ہے۔ تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے اور 444 روزہ یرغمالیوں کے بحران کے ساتھ ہی سفارتی تعلقات منقطع ہوئے اور دشمنی کو ادارہ جاتی (Institutional) شکل دے دی۔ اس مرحلے کے بعد یہ تنازع محض جیو پولیٹیکل نہیں رہا، بلکہ اس نے شناختی اور نظریاتی نوعیت اختیار کر لی۔
3۔ بالواسطہ تصادم اور پراکسی جنگیں (1980 کی دہائی - 2003)
ایران عراق جنگ کے دوران، امریکہ عملاً عراق کے ساتھ کھڑا رہا اور جنگ کے آخری سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست بحری کشیدگیاں رونما ہوئیں۔ 1988 میں امریکی جنگی جہاز نے ایران ایئر کے مسافر بردار طیارہ مار گرایا، یہ اس تشدد سے مالامال دور کے تلخ ترین نکات میں سے ایک تھا۔ اسی دوران، یہ تصادم بالواسطہ طور پر لبنان اور خلیج فارس میں بھی جاری رہا۔ اس مرحلے سے، "کنٹرول شدہ پراکسی تصادم" کا نمونہ تشکیل پایا۔ یہ وہ نمونہ تھا جو بعد میں عراق، شام اور یمن میں بھی دہرایا گیا۔
4۔ زیادہ سے زیادہ دباؤ اور علاقائی تصادم کی واپسی (2018 تا حال)
سنہ 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی جوہری معاہدے سے علیحدگی اور "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی کا نفاذ، تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں لے گیا۔ سنہ 2020 میں بغداد میں الحاج قاسم سلیمانی کا قتل، دونوں ممالک کو براہ راست تصادم کے دہانے تک لے گیا۔ اس مرحلے سے، ایران اور امریکہ کی مسابقت علاقائی کشیدگیوں، اقتصادی پابندیوں، سائبر حملوں اور بیانیوں کی جنگ کے نیٹ ورکی شکل میں جاری ہے۔
تجزیاتی خلاصہ یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے تصادم کی تاریخی جڑوں کو چار سطحوں میں سمیٹا جا سکتا ہے:
• تاریخی - سیاسی سطح: 1953 کی بغاوت اور بداعتمادی کا ورثہ
• نظریاتی سطح: اسلامی جمہوریہ کے تسلط مخالف بیانیے اور امریکہ کی بالادستی پو مبنی حکمت عملی کے درمیان تضاد و تصادم
• جیو پولیٹیکل سطح: مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ اور توانائی کی سلامتی پر مسابقت
• سلامتی - جوہری سطح: ایٹمی پروگرام اور علاقائی تسدید پر تنازع
اس طرح، یہ تصادم کوئی وقتی ـ اور کسی خاص مرحلے تک محدود ـ بحران نہیں، بلکہ کئی پرتوں والی جڑوں پر مشتمل ساختی تعارض و تصادم ہے۔
ایک کئی پرتوں والے تصادم کی مسئلہ شناسی (Problemology)
ایران اور ریاست ہائے متحدہ کے تعلقات کا تجزیہ اکثر بین الاقوامی تعلقات کے کلاسیکی نمونوں، ـ بشمول قوتوں کے توازن اور تسدید (Deterrence) کی پالیسی کے سانچے میں کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس تنازع کے تسلسل اور گہرائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ محض مادی مفادات پر اختلاف کا، نہیں ہے، بلکہ یہ معنی، شناخت اور عالمی ترتیب کی تعریف کے دائرے تک بھی پھیلا ہؤا ہے۔
مضمون کا بنیادی سوال اس طرح تشکیل دیا گیا ہے:
کیا ایران اور امریکہ کے تصادم کو محض ایک جیو پولیٹیکل مسابقت سمجھنا چاہئے، یا اسے "تکنیکی عصر میں ادراکی - تہذیبی تصادم" کی ایک مثال قرار دیا جا سکتا ہے؟
نظریاتی فریم ورک؛ ساختی حقیقت پسندی سے تہذیبی شناختیت تک
1۔ ساختی حقیقت پسندی
حقیقت پسندی کے نقطہ نظر سے، ریاست ہائے متحدہ امریکہ بین الاقوامی ترتیب کی اعلیٰ طاقت کے طور پر، اپنی بالادست پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور کوئی بھی ایسا اداکار جو علاقائی توازن بگاڑنے یا لبرل نظام کی علامتی چیلنجنگ کی صلاحیت رکھتا ہو، تسدیدی پالیسی کا نشانہ بنتا ہے۔
2۔ ساختیت (Constructivism) اور شناخت کی سیاست (Identity politics)
ساختیاتی مکتب فکر کے نقطہ نظر سے، شناختوں اور بیانیوں کا کردار فیصلہ کن ہے۔ ایران خود کو محض ایک ریاست نہیں، بلکہ ایک "تہذیبی موضوع" کے طور پر متعارف کراتا ہے، جبکہ امریکہ "عالمی لبرل نظام" کے بیانیے کا حامل ہے۔
3۔ تجویز کردہ تصور: تہذیبی - تکنیکی تقابل
ان دو سطحوں کے امتزاج میں، "تہذیبی - تکنیکی مقابلے" کا تصور تجویز کیا جاتا ہے۔ یہ وہ تصور ہے جو طاقت کے دو مختلف نمونوں کے تصادم کو عیاں کرتا ہے:
• نیٹ ورک پر مبنی - تکنیکی طاقت کا نمونہ
• شناختی - مزاحمتی طاقت کا نمونہ
تصادم کے میادین؛ کلاسیکی جنگ سے ادراکی جنگ تک
ایران اور امریکہ کے تصادم کو فوجی جنگ تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تصادم کثیر المیدان (Multi-field) ہے:
• تکنیکی جنگ
• اقتصادی جنگ
• ادراکی جنگ
• ابہام کی جغرافیائی سیاست جغرافیائی سیاسی ابہام (Geopolitical ambiguity)
اس صورت حال کو "کثیر الجہتی قابو شدہ کشیدگی" کہا جا سکتا ہے۔ یہ جنگ اور امن کے درمیان ایک حالت ہے۔
ٹرمپ کی سیاست اور ایران کی پائیداری کا تجزیہ
ٹرمپ کی پالیسی کو "علامتی جارحانہ حقیقت پسندی" (Symbolic Aggressive Realism) کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے: حریف کا رویہ یا شناخت تبدیل کرنے کے لئے اقتصادی دباؤ، فوجی دھمکی اور میڈیا پیغامات کا مجموعہ۔ اس کے مقابلے میں، ایران کی حکمت عملی "تسدیدی مزاحمت" (Deterrent resistance) پر مبنی ہے؛ براہ راست جنگ میں داخل ہوئے بغیر کی لاگت میں اضآفہ کرنا۔
نتیجہ: تہذیبی جنگ کا عمل یا طاقت کی مسابقت؟
یہ مضمون ظاہر کرتا ہے کہ ایران اور امریکہ کا تصادم محض کلاسیکی طاقت کا جھگڑا نہیں ہے اور نہ ہی یہ مکمل طور پر ایک تہذیبی جنگ ہے۔ بلکہ یہ جیو پولیٹیکل مسابقت، شناختی جھگڑے، تکنیکی جنگ اور عالمی قانونیت کی تعریف پر تصادم کا مجموعہ ہے۔ اسی لئے اسے "عالمی تکنیکی نظام کے تناظر میں شناختی تصادم" (Identity Confrontation in the Context of the Global Technological Order) کہا جا سکتا ہے۔
مستقبل کے منظرنامے بھی چار راستوں میں قابل تصور ہیں:
• پائیدار تسدید اور کنٹرول شدہ کشیدگی کا تسلسل
• عارضی سمجھوتہ اور کشیدگی کی واپسی
• فریقین میں سے کسی کا تدریجی فرسودہ ہونا
• نئے توازن کے سانچے میں تعلقات کی نئی تعریف
اگر مضمون کا فریم ورک محض "تہذیبی تصادم" پر استوار رہے تو یہ نظریہ لزومت (Essentialism) اور تخفیف پسندی (Reductionism) کا ملزم ٹہرایا جا سکتا ہے۔ متن کو علمی تقویت دینے کے لئے، اسے علاقائی تنازع شناسی (Conflictology) اور بین الاقوامی تنازعات کے تجزیے کے ساتھ معتدل سیاسی حقیقت پسندی کے سانچے میں ازسرنو تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ اس ازسرنو تحریر میں، "تمدن = تہذیب" کو ایک تکمیلی شناختی متغیر کے طور پر دیکھا جائے گا، نہ کہ علت العلل کے طور پر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: شهزاده دروازی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ