بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || نامور امریکی مفکر، ماہر اقتصادیات اور کولمبیا یونیورسٹی کے استاد پروفیسر جیفری ساکس کہتے ہیں:
ایران عشروں سے کہتا ایا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے درپے نہیں ہے اور عشروں سے اسی موضوع پر مذاکرات کرتا رہا ہے۔
تمام ناظرین اور سامعین جان لیں کہ سنہ 2015 میں "JCPOA" کے نام سے ایک سمجھوتہ ہؤا جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اتفاق رائے سے منظور ہؤا۔
لیکن ہؤا کیا؟
ٹرمپ نیتن یاہو کے ہاتھ میں ایک مہرے جیسا کردار ادا کرتا ہے، چنانچہ انھوں نے برسر اقتدار آ کر اس سمجھوتے کو پھاڑ لیا۔
ٹرمپ نے اسرائیلی ریاست کی خواہش پر عمل درآمد کیا۔ اسرائیلی ریاست اس سمجھوتے کا خاتمہ کیوں چاہتی تھی؟ اس لئے کہ یہ مسئلہ ہرگز جوہری ہتھیاروں کا نہیں تھا۔ یہ مسئلہ مشرق وسطی میں اسرائیلی ریاست کی بالادستی کا تھا۔
اسرائیلی ریاست نے اعلانیہ کہہ دیا ہے کہ وہ ایران کے نظام کا خاتمہ چاہتی ہے، یہ نہ تو کوئی راز ہے اور نہ ہی میری طرف کا کوئی دعوی ہے۔ یہ اسرائیل کی مکرر اور مستقل پالیسی ہے جو برسوں سے دہرائی جا رہی ہے۔
یہ تمام تر دعوے کہ "ٹرمپ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کے لئے مذاکرات کر رہے ہیں"، ایسے حال میں دہرائے جا رہے ہیں کہ اس سے پہلے ایسا ایک معاہدہ منعقد ہو چکا تھا اور ٹرمپ نے خود اس کا خاتمہ کر دیا۔
ایرانی ہر سال پلٹ کر آئے ہیں اور اس بات پر تاکید کی ہے کہ "ہم جوہری ہتھیار کے خواہاں نہیں ہیں اور مذاکرات کے خواہاں ہیں۔ لیکن امریکہ "مثبت جواب" کو قبول نہیں کرتا، کیونکہ یہ ملک اسرائیل کے لئے کام کرتا ہے اور ایرانیوں کے اس جواب سے اسرائیلی ریاست کے عزائم کی تکمیل نہیں ہوتی۔
نکتہ یہی ہے، اسرائیل کی خواہش کی تکمیل کیوں ہوتی ہے؟ شاید اس بات کا ادراک کچھ مشکل ہو، شاید یہ اس لئے ہے کہ (مقبوضہ فلسطین میں امریکی سفیر) مائیک حکابی (Mike Huckabee) کے گروپ کی خاطر ہو اور ان لوگوں کی خاطر جو بائبل کو پڑھ لیتے ہیں اور کہتے کہ یہ ہماری خارجہ پالیسی ہے؛ یہ بھی ممکن ہے۔
اور ہاں! شاید یہ ان حقائق کی خاطر ہو جو اپیسٹین فائلز میں ہنوز شائع نہیں ہؤا ہے! شاید یہ ایک بلیک میلنگ ہو، ممکن ہے کہ کسی بدعنوانی کا نتیجہ ہو، یا دوسرے بہت سارے عوامل اس کا سبب ہو، لیکن جو کچھ یقینی ہے وہ یہ ہے کہ اس تنازع کا امریکی مفادات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ