اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی یونیورسٹی آف میری لینڈ کے پروفیسر اور سیاسی معیشت کے ماہر فرینک مسمار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی کا آغاز کرتا ہے تو ایران خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی مفادات اور فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
فرینک مسمار نے کہا کہ امریکہ کے فوجی اڈے اور تنصیبات خلیج فارس کے اطراف پھیلے ہوئے ہیں اور ایران کی دفاعی صلاحیتیں ایسی کارروائیوں کے لیے مؤثر ہیں۔ ان کے مطابق ایران ان ممالک کے اہم انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جو کسی امریکی حملے میں شریک ہوں، جن میں اردن اور اسرائیل شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس خلیج فارس میں بحری بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت بھی موجود ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کو جہاں ایران اور عمان کے درمیان ایک انتہائی اہم عالمی گزرگاہ سمجھا جاتا ہے۔
مسممار کے مطابق سالانہ عالمی سطح پر مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اور 20 سے 25 فیصد تیل اور اس کی مصنوعات آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرتی ہیں۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی تجارت اور تیل کی قیمتوں پر اس کے براہِ راست اور سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس سے قبل تیز رفتار بحری بارودی سرنگوں کی مشقیں کر چکا ہے، اور اگر ایسی کسی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تو عالمی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعہ کے روز ترکیہ کے وزیرِ خارجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ایران، مذاکرات کے ساتھ ساتھ دفاع کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی جارحیت کا سامنا ہوا تو ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ردعمل دے گا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کی براہِ راست شمولیت کی صورت میں ممکنہ تصادم سابقہ جنگوں سے کہیں زیادہ وسیع اور خطرناک ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دوطرفہ جنگ سے آگے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عقل و تدبر غالب آئے گا اور خطے کو ایک ہمہ گیر جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران نے ہمیشہ سفارتکاری کو قومی مفادات اور علاقائی امن کے تحفظ کا ذریعہ سمجھا ہے، تاہم کسی بھی قسم کی دھمکی، دباؤ یا مسلط کردہ شرائط کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ حقیقی مذاکرات وہ ہوتے ہیں جو برابری، انصاف اور باہمی احترام پر مبنی ہوں، جبکہ دھمکیوں کے سائے میں ہونے والی بات چیت کو ایران کبھی مذاکرات تسلیم نہیں کرے گا۔
آپ کا تبصرہ