اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے مؤقر روزنامہ ڈاون نے اپنے اداریے میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جوہری مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اب فیصلہ کن قدم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اٹھانا ہوگا۔
اداریے بعنوان “کیا معاہدہ قریب ہے؟ میں کہا گیا ہے کہ خلیج فارس کی صورتحال نہایت حساس ہو چکی ہے اور ایسے میں سفارتی پیش رفت بے حد اہمیت رکھتی ہے۔ اخبار کے مطابق مذاکرات میں حقیقت پسندی اور سنجیدہ طرزِ عمل ناگزیر ہے۔
اداریے میں ٹرمپ کی دوہری حکمت عملی اور سیاسی دباؤ کی مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ نفسیاتی دباؤ پیدا کرنے کے بجائے امریکہ کو عملی اور قابلِ عمل اہداف پر توجہ دینی چاہیے۔
اخبار نے لکھا کہ ایران دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالنے والا نہیں اور تہران مذاکرات کی کامیابی کے لیے پُرامید ہے، بشرطیکہ واشنگٹن سنجیدہ اور دیانتدارانہ رویہ اختیار کرے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ جوہری معاملے میں حقیقت پسندانہ اہداف اور علاقائی تعاون کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
اداریے میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو قابلِ عمل نکات پر مبنی ہونا چاہیے اور ایسا فریم ورک تشکیل دیا جائے جو ایران کی معاشی بحالی کی راہ ہموار کرے۔
آخر میںڈاون نے مشورہ دیا کہ امریکہ کو دباؤ کی پالیسی سے پیچھے ہٹ کر اقتصادی اور سفارتی تعاون کو فروغ دینا چاہیے تاکہ ایک مؤثر اور پائیدار جوہری معاہدہ ممکن بنایا جا سکے۔
آپ کا تبصرہ