بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "امریکہ زوال" کا تیسرا بین الاقوامی سیمینار اکتوبر کے مہینے میں، چھ آبان 1404 میں، "دنیا کا نیا دور" کے عنوان سے تہران میں منعقد ہؤا۔ جس میں اندرونی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز نے شرکت کی اور اندرونی اور غیر ملکی محققین، پروفیسروں نے خطاب کیا اور امریکہ کے سابق سفارت خانے میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی کئی فعال کارکنوں اور ماہرین نے بھی اس سیمینار کی ایک نشست میں تقاریر کیں۔
سامراج مخالف امریکی کارکن اور صحافی کیلب ماپین (Caleb Maupin) نے سیمینار کے ایک مقرر کے طور پرکہا:
۔۔۔ اس صورت حال سے نکلنے کا واحد راستہ ایک ایسے نظام اور عالمی ترتیب کا قیام ہے جس میں منافع انسان سے زیادہ اہم نہ ہو؛ ایسا نظام جس میں عقلی منطق (Rational logic) اور اخلاقی اصولوں پر مبنی استدلال، پیداوار کی روش کا لائحہ عمل بن جائے؛ ایسا نظام جس میں معاشرہ اقتصاد کا عقلی انتظام و انصرام کرے، تاکہ بینکاروں اور منافع پرستوں کے مفادات کے بجائے لوگوں کی ضروریات اور خیراتی سرگرمیوں، کو مدنظر رکھ کر، پہلی ترجیح بن جائے۔
میں ایران کے اسلامی انقلاب کی طرف نظر ڈالتا ہو جس کی جدوجہد، کیپیٹلزم کی بنیاد پر نہیں بلکہ، اسلامی اصولوں کی بنیاد پر تھی: غربت کی جدوجہد ثروت و دولت کے خلاف، "لا شرقیہ لا غربیہ" پر مبنی نظام، وہ تمام اہداف و مقاصد (اور Ideals) جو امام خمینی (رضوان اللہ علیہ)، اور حال حاضر میں رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی طرف متعین ہوئے ہیں۔ میں اس ماڈل کوایک نمونے کے طور پر دیکھتا ہوں اس حوالے سے کہ اگر کوئی ملک اس ظالمانہ عالمی نظام سے الگ ہو جائے تو وہ بہت کچھ کر سکتا ہے۔
امریکہ کا مستقبل بہت دشوار ہے، ہمارا ملک اندر سے انحطاط ۔ بوسیدگی (Decay) کی حالت میں ہے۔ ہمارے ملک امریکہ میں اشرافيہ (يا استحصاليہ) آپس میں، ایک دوسرے کے خلاف دست بگریباں ہونے لگے ہیں؛ لیکن جو کچھ ہمیشہ ـ بالخصوص "مرکز برائے سیاسی جدت طرازی" (Center for Political Innovation) نامی تھنک ٹینک کی تاسیس کے موقع پر ـ میرا نصب العین تھا، وہ میرے اس ادراک کا نتیجہ تھا کہ "میری ذمہ داری نیست و نابود کرنا اور تخریب کاری اور سبوتاژ کرنا نہیں ہے بلکہ بنانا اور تعمبر کرنا ہے۔ میری ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کر دوں اور ان کے درمیان اختلاف اور انتشار پھیلا دوں، بلکہ لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا اور ان کے درمیان عشق و محبت اور یکجہتی قائم کرنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ امریکی عوام جاگ اٹھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ ان کے دشمن فلسطینی، ایرانی اور یمنی، چینی، کیوبن اور وینزویلائی، نکاراگوئن اور افریقی براعظم کے عوام نہیں ہیں، بلکہ ان کے دشمن بین الاقوامی بینکار ہیں؛ وال اسٹریٹ کے اجارہ دار ہیں جن کی کوشش ہے کہ پوری دنیا کو ـ کم تنخواہوں اور ناچیز اجرتوں کے ساتھ ـ ایک پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کر دیں اور ایک نئی عالمی جنگ کے لئے راستہ ہموار کریں، امریکی عوام جاگ اٹھیں گے،اور امریکہ امپریلزم سے چھوٹ جائے گا۔ یہ واحد مستقبل ہے جس کا امریکہ کے لئے تصور کیا جا سکتا ہے۔ [اور اس کے لئے ہم اسی مستقبل کی آرزو کرتے ہیں کیونکہ اس کے سوا اس کا کوئی مستقبل نہیں ہے]۔
میں اپنے ملک کا عاشق ہوں، اپنے عوام کا عاشق ہوں، اور میں فخر و اعزاز کے ساتھ اپنے ملک کی جڑوں کی طرف دیکھتا ہوں کہ ہم نے برطانوی سلطنت کو شکست دی؛ میں اپنی جدوجہد پر فخر کرتا ہوں جس میں ہے غلام پروری (Slavery) کو شکست دی؛ سیاہ فاموں کی آزادی کی بہادرانہ تحریک پر فخر کرتا ہوں؛ میں میلکم ایکس (Malcolm X) (یا الحاج ملک الشباز) کی حصول یابیوں پر فخر کرتا ہوں؛ میلکم ایکس کی حصول یابیوں، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر (Martin Luther King Jr.) اور ان دوسروں کی حصولیابیوں پر فخر کرتا ہوں جو میرے ملک میں مظلوموں کے لئے لڑے۔ میں ایک محب وطن امریکی ہوں، لیکن جانتا ہوں کہ امریکہ کے مستقبل کی ضمانت اس بین الاقوامی ترتیب سے باہر ہی دی جا سکتی ہے، جو پوری دنیا کو نیست و نابود کر رہی ہے۔
ہم "مرکز برائے سیاسی جدت طرازی" (Center for Political Innovation) میں ـ ایک تھنک ٹینک اور ایک تربیتی تنظیم کے طور پر ـ امیریلزم مخالف آگہی، امریکی حب الوطنی، خداوند متعال کے احترام اور یہاں، امریکہ اور پوری دنیا کے مظلوموں کے لئے جدوجہد کا احترام کرنے کے درپے ہیں۔ ان آئیڈیلز کو امریکہ میں فروغ دینے کے درپے ہیں۔ ہم نے یمن کے حوثیوں ـ انصار اللہ تنظیم ـ کے بارے میں ایک کتاب شائع کی ہے اور فخر کے ساتھ کہتا ہوں کہ صرف اس سال ہم نے اس کتاب کے 2000 نسخے ـ جس کا عنوان ہے "حوثی کون ہیں اور وہ کس لئے لڑتے ہیں؟" ـ پورے امریکہ، فلسطینیوں کی حمایت میں احتجاج کرنے والے طلباء اور شہری اور دیہی علاقوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے درمیان بانٹ دیئے۔
ہم نے "حقیقت" کے فروغ اور نشر و اشاعت کے لئے اپنی پوری کوشش کی ہے؛ اس حقیقت کو بیان کرنے کے لئے کہ انصار اللہ کون ہیں اور کس لئے لڑتے ہیں اور ہم کس طرح ان لوگوں کی جدوجہد اور امریکہ میں مزدوروں کی جدوجہد اور آئیڈیلز اور نظریات اور قربانیوں کے درمیان تعلقات برقرار کر سکتے ہیں، جو بحر احمر میں جدوجہد کر رہے ہیں، جہاں یمنی عوام صہیونیوں کے مقابلے میں آ کھڑے ہوئے ہیں۔ ہم لوگوں کو تعلیم دیں گے اور تربیت دیں گے، ایثار و جانفشانی کریں گے اور قربانی دیں گے، اپنی کوششوں کو پھیلائیں گے، اپنی غلطیوں سے سبق لیں گے، اپنی کارکردگی پر نظر ثانی کریں گے، یکجہتی، محبت اور شفقت کی بنیاد پر ایک ایسا نیٹ ورک تشکیل دیں گے، جو یہیں امریکہ میں، امپریلزم و استعمار کے خلاف اور مظلوموں سے یکجہتی کا پیغام پھیلا دے گا۔
ایک بار پھر اس عظیم موقع کے لئے آپ کا شکرگزار ہوں۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور ایرانی عوام پر سلام بھیجتا ہوں اور جانتا ہوں کہ جب آپ کہتے ہیں کہ "امریکہ بڑا شیطان ہے"، تو آپ کا مطلب ہم [امریکی عوام] نہیں ہیں؛ بلکہ بڑے شیطان سے آپ کی مراد ایک نظام ہے؛ ایک شیطانی نظام جو پوری دنیا کے لوگوں کو غربت سے دوچار کرتا ہے اور اپنی بقاء کے لئے جنگوں کا محتاج ہے؛ میں جانتا ہوں کہ وہ نظام میرے ملک عوام کا، امریکی عوام کا، دشمن اور خدائے متعال کا دشمن ہے اور وہ مغلوب ہو کر رہے گا۔
مجھے یقین ہے کہ ایک دن ہمارے پاس ایسا امریکہ ہوگا جو ایرانی عوام، فلسطینیوں، روسیوں، چینیوں اور پوری دنیا کے ان لوگوں کے ساتھ ہاتھ ملائے گا جوامپریلزم کے مقابلے میں مقاومت و مزاحمت کر رہے ہیں۔
مجھے یقین ہے ہمارے پاس ایک نیا امریکہ ہوگا جو مظلومین کی جدوجہد اور اس ادراک سے جنم لے رہا ہے کہ "عدل و انصاف کو غالب آنا چاہئے اور پیسے اور لالچ کی حکمرانوں کو شکست ہونی چاہئے۔"
میں ایک نئے امریکہ کے مستقبل پر یقین رکھتا ہوں اور جانتا ہوں کہ یہ امپریلزم مخالف کارکنوں، عالمگیر سازی کے مخالفین اور صہیونیت کے مخالفیں کے کندھوں پر، یہیں، امریکہ کے مرکز میں، ایک اہم تاریخی مشن ہے اور اس مشن کی تکمیل ہمارا فرض ہے۔
میں اس کانفرنس میں تقریر کا موقع دیئے جانے پر ایک بار پر شکرگزار ہوں اور زور دے کر کہنا چاہتا ہوں کہ میں امریکہ میں لاقانونیت، افراتفری اور تخریب کاری کے درپے نہیں ہوں۔ میں ایک نئے امریکہ کا خواہاں ہو جس نے ایک پرامن جدوجہد سے جنم لیا ہو۔ یہ وہ چيز ہے جو میں چاہتا ہو اور ہمارا تھنک ٹینک "مرکز برائے سیاسی جدت طرازی" (Center for Political Innovation)، ہر روز اس کی تعمیر کے لئے کوشاں ہے۔
خدائے متعال اپنی تمام تر برکتیں ان لوگوں پر نازل فرمائے جو مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں۔ / اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ