بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایپسٹین کا قصہ اور ہے؛ یعنی ٹرمپ ویسے بھی متضاد بیانات کے حوالے سے بدنام ہیں لیکن ایران کے حوالے سے یہ بے ربط اور منتشر بیانات صدر امریکہ کی تخفیف و تذلیل کی حد تک پہنچ گئے ہیں۔
ٹرمپ نے ان چند دنوں میں ایران کو دو مرتبہ فوجی حملے کی دھمکی دی، اور تیسری مرتبہ بلوائیوں سے یہاں تک بھی کہا کہ "ہماری مدد راستے میں ہے"، لیکن بلوائیوں اور انقلاب دشمنوں اور وطن فروشوں کی آنکھیں راستے پر لگ کر خشک ہو گئیں اور امریکی صدر کی طرف سے کوئی خبر نہيں آئی! خبر آئی تو رضا پہلوی تذلیل اور سابقہ موقف سے ان کی پسپائی کی خبر تھی اور ٹرمپ نے "ایرانی حکام کا شکریہ ادا کیا کہ بقول اس کے انہوں نے کچھ بلوائیوں کو پھانسی نہ دینے کی اس کی درخواست پر عمل کیا ہے!" اور ہاں انھوں نے یہ بھی کہا: "رضا پہلوی ـ جسے ایرانی چوتھ (¼) پہلوی کہتے ہیں ـ حکمرانی کی اہلیت نہیں رکھتا۔"
رہبر انقلاب کو دھمکی اور ٹرمپ کی تذلیل، ایک بار پھر
ٹرمپ کی تحقیر و تذلیل یا خودتحقیری اس وقت اور بھی عیاں ہوئی جب انھوں نے رہبر انقلاب اسلامی نے انہیں ایران کے حالیہ واقعات کا ملزم نمبر 1 قرار دیا اور فرمایا: "امریکی صدر نے اعلانیہ طور پر فتنہ گروں کی حوصلہ افزائی کی، اور پس پردہ بھی، امریکہ اور صہیونی ریاست نے بلوائیوں اور دہشت گردوں کو مدد پہنچائی؛ لہٰذا ہم امریکی صدر کو مجرم سمجھتے ہیں جانی نقصانات کے لئے بھی، مالی نقصانات کے لئے بھی اور اس بہتان و الزام کے لئے بھی جو اس نے ایرانی قوم پر لگائی۔"
ان باتوں نے ٹرمپ کو ایک بار پھر ایران اور رہبر معظم کے خلاف رد عمل دکھانے پر مجبور کیا اور انھوں نے اپنی معمول کی ہرزہ سرائیاں دہراتے ہوئے پولیٹیکو جریدے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "وہ وقت آن پہنچا ہے کہ ایران میں ایک نیا رہبر تلاش کریں۔"
ٹرمپ، جنہوں نے چند ہی روز قبل اپنے بقول 800 احتجاجیوں کو پھانسی نہ دینے پر ایرانی حکام کا شکریہ ادا کیا تھا ایک بار پھر اپنا پرانا موقف دہرایا اور اس بار ایران کی چوٹی کی شخصیت کو دھمکی دی؛ ایسی دھمکی جس پر نہ صرف ایران سے، بلکہ عراق، یمن، لبنان، پاکستان وغیرہ سے بھی شدید رد عمل آیا اور بہت سارے علماء، دانشوروں اور سیاسی راہنماؤں نے سخت الفاظ میں مذمت کی۔

اور ہاں! ٹرمپ اس موقف پر بھی قائم نہیں رہے سکے اور بات یہاں تک پہنچی کہ ایران کی طرف سے مبینہ قاتلانہ حملے سے اپنے خوف کا اظہار کیا اور "نیوز نیشن" کے ٹیلی وژن پروگرام میں کہا: "اگر ایران مجھے قتل کرے تو صفحۂ روزگار سے مٹا دیا جائے گا!"
آزمایا ہؤا جسے ٹرمپ نے بھی کئی بار آزمایا ہے
ٹرمپ کے رویۓ میں تیزرفتار تبدیلی اور ایران کے بارے میں ان کے عجیب و غریب خیالات اور بیانات کی تاریخ ان کے اقتدار جتنی پرانی ہے۔ جون 2025ع کی 12 روزہ جنگ میں ایران کے بارے میں اس کا موقف کئی مرتبہ بدل گیا۔
ٹرمپ نے ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد "ایران کی تذلیل" جیسے الفاظ استعمال کئے تھے، لیکن جب ایران کے تابڑ توڑ حملوں اور فیصلہ کن جوابی کاروائیوں نے تل ابیب اور حیفا وغیرہ کو مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کرنا شروع کیا تو ٹرمپ نے اپنا موقف فورا تبدیل کیا اور ایران کی مسلح افواج کی کارکردگی کی تعریف کی۔
امریکی صدر نے 12 روزہ جنگ کے صرف ایک دن بعد کہا: "ایران بہادری سے لڑا۔ ایرانیوں کو تعمیر نو کے لئے رقم کی ضرورت ہے، اور چین ایران کا تیل خرید سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ اگلے ہفتے ہم ایرانی حکام سے رابطہ کریں۔"
ٹرمپ کا یہ موقف ایسے وقت سامنے آیا کہ اس سے صرف 48 گھنٹے پہلے ایران نے امریکی بمباری کے جواب میں قطر میں ـ مغربی ایشیا کے سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے ـ العدید پر میزائل حملہ کیا اور اس اڈے پر حملہ امریکہ کے قومی مفادات پر حملہ سمجھا جاتا تھا، اور دنیا میں بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ امریکہ بہت سخت رد عمل دکھا سکتا ہے، لیکن ٹرمپ نے ایران کی تعریف کی!
سنہ 2020ع میں جب جب ایران کے دیسی ساختہ فضائی دفاعی سسٹم نے ـ اس ملک کے جنوب میں ایرانی حدود میں داخل ہونے والے امریکہ انتہائی مہنگے گلوبل ہاک ڈرون کو مار گرایا تو ٹرمپ نے اس وقت دنیا کو حیرت میں ڈال دیا جب انھوں نے سابقہ سخت لب و لہجے کو بدل کر موقف اپنایا: "ایک امریکی طیارہ بھی ـ جس پر 38 افراد سوار تھے ـ ایرانی دفاعی سسٹم کی رینج میں تھا لیکن ایرانیوں نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور اسے نشانہ نہیں بنایا! یہ ایرانی فیصلہ عقلمندانہ تھا اور ہم اس فیصلے پر ایرانی حکام کے شکرگزار ہیں!!"
پاگل شخص کے مقابلے میں "صرف" استقامت، کارآمد ہے
ٹرمپ نے اب تک ثابت کرکے دکھایا ہے کہ جس کے سامنے جو بھی کرنش کرکے، سر جھکائے، معذرت خواہانہ لب و لہجہ اختیار کرے، اس کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتا ہے اور اس کے سامنے مطالبات کی فہرست رکھتا ہے۔ یہ صورت حال یورپی ممالک کے سلسلے میں بھی عیاں و نمایاں ہے۔
بی بی سی نے حال ہی میں ایک رپورٹ میں جائزہ لیا ہے کہ "یورپیوں کی مسلسل پسپائیوں نے ٹرمپ کو جری کر دیا ہے گو کہ اب ٹرمپ کے طعنے بہت سے یورپی راہنماؤں کے لئے ناقابل برداشت ہیں"، [لیکن شاید یورپ کے لئے کافی دیر ہو چکی ہے اور ٹرمپ بہت آگے بڑھ گیا ہے]۔
لیکن جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو جب بھی امریکہ نے ـ چاہے ٹرمپ کے دور میں چاہے اس سے پہلے، ـ کسی فوجی اقدام کا سہارا لیا ہے اس کو عملی جواب مل گیا ہے: خلیج فارس میں امریکی ملاحوں کی ذلت آمیز گرفتاری سے لے کر، گلوبل ہاک ڈرون (Northrop Grumman RQ-4 Global Hawk) کو مار گرانے تک؛ شہید جنرل سلیمانی کی شہادت کے بعد عراق میں سب سے بڑے امریکی اڈے پر میزائل حملے سے لے کر العدید (قطر) کے اسٹراٹیجک امریکی اڈے پر میزائلوں کی بارش تک؛ اور یہ پیغام امریکیوں تک منتقل ہو گیا ہے کہ "ایران کے لئے بالکل الگ انداز سے سوچنا پڑے گا۔"
سبکدوش لبنانی بریگیڈیئر جنرل منیر شحادہ کا کہنا ہے کہ "ایران ان ممالک کی طرح نہیں ہے جن پر امریکہ نے حملہ کیا ہے اور انہوں نے امریکی حملوں کا جواب نہیں دیا ہے؛ ایک ایک زبردست تسدیدی نظام (Deterrence) کا مالک ہے جو کئی پرتوں پر مشتمل ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: علی رضا محمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ