1 فروری 2026 - 16:48
حضرت عباسؑ کی پانچ خصوصیات

حضرت عباس (علیہ السلام)؛ معرفت، بصیرت اور مجاہدت کا نمونہ ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ||

امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے حضرت عباس (علیہ السلام) کی توصیف میں فرمایا:

"كانَ عَمُّنَا العَبّاسُ بنُ عَلِيٍّ نَافِذَ البَصيرَة صُلبَ الإيمَانِ جَاهَدَ مَعَ أبي عَبدِ اللَّهِ وَأبليَ بَلَاءً حَسَناً وَمَضَىٰ شَهِيداً؛ [1]

ہمارے چچا عباس گہری بصیرت کے مالک اور راسخ الایمان تھے، آپؑ نے امام حسین (علیہ السلام) کے ساتھ جہاد کیا، اور آّپؑ کو بہتر آزمائش سے گذارا گیا، اور بطور شہید دنیا سے ہو گذرے۔" 

اس حدیث میں حضرت عباس (علیہ السلام) کی پانچ ممتاز خصوصیات بیان ہوئی ہیں:

1۔ نافذ البصیرہ:

یعنی حضرت عباس (علیہ السلام) نہ صرف صاحب بصیرت تھے اور فتنوں، اور اعتقادی، سماجی، سیاسی اور دینی و اعتقادی امور میں اٹھنے والی سیاہ اندھیوں کے بیچ بھی، حقائق آپؑ کے اوپر مشتبَہ نہیں ہوتے تھے اور سیدھے نیز ٹیڑھے راستے کو بطور احسن تشخیص دیتے تھے؛ بلکہ آپؑ نافذ البصیرہ تھے۔ یعنی آپؑ کی بصیرت نہ صرف، امور و معاملات کی ظاہری پرتوں کو دیکھتے تھے بلکہ آپؑ معاملات کی زیریں پرتوں اور اتہاہ گہرائیوں اور بھول بھلیوں کا بہترین انداز سے ادراک کرتے تھے۔ مسائل کی گہرائی کو دورترین میدانوں اور عمیق ترین امور کی اچھی طرح سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔

2۔ صُلْبُ الإيِمانِ:

ایمانِ صُلب، یعنی، ایسا ایمان جو اولاً مستحکم، دیرپا اور تزلزل ناپذیر بنیادوں پر استوار ہو، ثانیاً یہ ایمان طور طریقوں اور مزاج و خصلت کے اعتبار سے بھی ناقابل تسخیر ہے اور اس کا مالک دشمن کی سازشوں سے متاثر نہیں ہوتا۔

حضرت عباس (علیہ السلام) کی اہم ترین خصوصیات میں سے ایک "ایمانِ مُحکم"، اور حق کے راستے میں "مستقل اور دائمی استقامت" تھی۔ آپؑ نے اپنی بربرکت زندگی میں ایک لمحہ بھی راہ حق میں سستی نہیں دکھائی اور ایک لمحہ بھی اپنی پیش روی سے باز نہیں آئے؛ بلکہ دائمی طور پر آگے کی طرف اپنی حرکت کو تیزتر کرتے رہے اور ولایت و امامت کے مقام کی نسبت اپنی دانش و معرفت، ادب و بصیرت میں اضافہ کیا۔

حضرت عباس (علیہ السلام) کے زیارت نامے کا ایک اقتباس دیکھئے:

"أَشْهَدُ أَنَّكَ‌ لَمْ‌ تَهِنْ‌ وَلَمْ‌ تَنْكُل؛ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نہ تو سستی دکھائی نہ ہی رک گئے۔"

اور یہ وہ درس ہے جس کی آج کے زمانے میں، ـ جبکہ فلسطین اور غزہ کے عوام سمیت مظلوم مسلمانوں اور مستضعفین کے واحد علمبردار، اور عالم اسلام کی بقاء اور استحکام کے ضامن، دنیا کا واحد اسلامی نظام کو شدیدترین خطرات اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ـ آپؑ کے حبداروں، عقیدتمندوں اور پیروکاروں کو اشد ضرورت ہے۔

3۔ جَاهَدَ مَعَ أبي عَبدِ اللَّهِ:

آپؑ ابو عبداللہ امام حسین (علیہ السلام) کے رکاب میں، آپؑ کے ساتھ، ـ یعنی امام معصومؑ کی معیت میں، اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ آپؑ امام حسین (علیہ السلام) کے لشکر کے علمدار اور سپہ سالار تھے؛ یعنی ایسے لشکر کے علمدار جس کے ارکان روئے زمین پر وفادار ترین، بہترن، عزیزترین افراد تھے۔

4۔ وَأبليَ بَلَاءً حَسَناً:

حضرت عباس (علیہ السلام) کی دیگر ممتاز خصوصیات میں سے ایک تھی کہ آپؑ اللہ کی انتہائی سخت آزمائش سے سرخرو ہوکر عہدہ برآ ہوئے۔ یہ وہ سخت مگر بہتر آزمائش تھی جس سے گذرتے ہوئے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ)، امیرالمؤمنین اور امام حسن مجتبیٰ (علیہما السلام) کے بہت سے اصحاب کامیاب نہ ہو سکے تھے اور صحیح راستے کی تشخیص میں کامیاب نہيں ہو سکے تھے، لیکن حضرت عباس (علیہ السلام) نہ صرف اس آزمائش میں داخل ہو گئے بلکہ انتہائی خوش اسلوبی اور خوبصورتی سے اس سے عہدہ برآ بھی ہوئے؛ اور یوں آپؑ تاریخ میں ہمیشہ کے لئے تمام راہ حق کے تمام مجاہدوں، جانبازوں اور غازیوں اور راہ امامت و ولایت کے راہیوں کے لئے بہترین نمونۂ عمل بن گئے۔

5۔ وَمَضَىٰ شَهِيداً:

حضرت عباس (علیہ السلام) راہ حق پر استوار رہے، اپنے امام حضرت سیدالشہداء (علیہ السلام) کی معیت میں جہاد کیا یہاں تک کہ آپ اس فرزند رسولؐ کے قدموں میں جام شہادت نوش کر گئے۔ اور یہ مقام و منزلت بہت بلند و بالا ہے؛ کیونکہ جو انسان امام معصوم کے قدموں میں شہادت پائے، اور ولی خدا کے ہاں مقام و منزلت کا مالک بھی ہو تو امام معصوم اس کی شہادت پر ان عظیم اور دل دہلا دینے والے جملے بروئے کار لاتے ہیں:

"الْآنَ انْكَسَرَ ظَهْرِي وَقَلَّتْ حِيلَتِي‌؛

اب میری کمر ٹوٹ گئی اور میری امید منقطع ہو گئی"۔

شہید کے عنوان سے آپؑ کا عدیم المثال مقام:

امام زین العابدین سید الساجدین حضرت علی بن الحسین بن علی (‏علیہم السلام) نے فرمایا:

"إِنَّ لِلعَبّاسِ عِندَ اللَّهِ مَنزِلَةٌ يَغبِطُهُ بِها جَميعُ الشُّهداءِ يَومَ القيامَةِ؛ [2]

[ہمارے چچا] عاس کے لئے اللہ کی بارگاہ میں ایسی منزلت ہے کہ روز قیامت تمام تر شہداء ان سے رشک کریں گے"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: تحریر: احمد حسین شریفی

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110


[1]۔ ابن عنبہ، احمد بن علی الحسنی الحسینی، عمدۃ الطالب فی نسب آل أبی طالب، ص353۔

[2]۔ المجلسی، محمد باقر بن محمد تقی، بحار الأنوار، ج22، ص274۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha