بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے بدھ کی صبح (28 جنوری 2026) کو امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک سی این این کے ساتھ ایک گھنٹے طویل گفتگو میں خطے کے حالات، ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں اور ایران کے خلاف حالیہ امریکی-صہیونی دہشت گردانہ جنگ پر بات چیت کی۔
اس گفتگو میں، قالیباف نے نیٹ ورک کے میزبان "فریڈرک پلیٹجن (Frederik Pleitgen)" کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے گذشتہ ہفتوں کے واقعات کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی، اور سی این این کے ناظرین کے لئے مسلح گروپوں کی موجودگی اور ایران کے عوام کے خلاف دہشت گردوں کی تشدد کی ایک ویڈیو بھی دکھائی۔

مجلس کے صدر نے سی این این کے میزبان کو حالیہ فسادات
میں شہید ہونے والی تین سالہ ملینا کی تصویر دکھائی
پارلیمان کے اسپیکر نے واضح کیا کہ "اگرچہ تہران مذاکرات کے لئے تیار ہے، لیکن میرا خیال نہیں ہے کہ یہ وہ "مذاکرات ہونگے جو امریکی صدر چاہتے ہیں؛ وہ صرف دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتے ہیں؛ اور ہم ایسے مذاکرات کے خواہاں نہیں ہیں۔"
انھوں نے خطے میں امریکی فوجیوں میں اضافے کے حوالے سے واشنگٹن کو متنبہ کیا کہ "اگر ایران پر حملہ ہؤا تو ہمارا ملک جوابی کاروائی کرے گا اور یہ امریکی حملہ ہزاروں امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈال دے گا۔"

سی این این کے میزبان کو دہشت گردوں کی تصاویر دکھاتے ہوئے
ڈاکٹر قالیباف نے کہا: "مذاکرات جنگ کے سائے میں ہونگے تو یہ تناؤ اور کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں۔"
انھوں نے زور دے کر کہا: "جب تک ایرانی عوام کے اقتصادی فوائد کی ضمانت نہیں دی جاتی، مذاکرات ممکن نہیں ہیں، کیونکہ ہم فریق مقابل کی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کو مذاکرات نہیں سمجھتے۔ اگر ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام چاہئے تو انہیں اپنے ارد گرد جنگ پسندوں اور ممالک پر تسلط جمانے کے خواہشمندوں کو اپنے سے دور کرنا چاہئے۔"
قالیباف نے امریکہ کی طرف سے مذاکرات کی تجویز کے بارے میں کہا: "آپ نے کہا کہ امریکہ بات چیت کی بات کرتا ہے۔ میں پہلے یہ کہنا چاہوں گا کہ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ مذاکرات سے امریکہ کی مراد کیا ہے؟ اگر بات چیت ایک حقیقی گفتگو ہو اور بین الاقوامی آداب، ضوابط اور اصولوں کے دائرے میں ہو، تو ہاں، ہم مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔"
مجلس شورائے اسلامی کے سربراہ نے مزید کہا: "لیکن ہمیں ماضی کے تجربے کو دیکھنا چاہئے اور حالات کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔ امریکی صدر کے بارے میں ہم نے آج تک جو کچھ دیکھا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنی بات مسلط کرنا چاہتے ہیں؛ سیاسی استحصال اور اپنی رائے مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ان کی یہ رائے قبول نہیں کی جاتی، تو وہ جنگ مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں!"
انھوں نے مزید کہا: مسٹر ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں، ایٹمی معاہدہ (JCPOA) ایک ایک ایسی بات چیت کا نتیجہ تھا تھی جو حکومتوں کے درمیان ہوئی تھی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور ہوئی تھی، لیکن انھوں نے اسے پھاڑ کر پھینک دیا۔ اگر اس قسم کی بات چیت ہوتی ہے، تو آپ کے خیال میں اس کا کیا فائدہ ہے اور عالمی رائے عامہ کے نقطہ نظر سے اس کا ثمرہ کیا ہوگا؟
قالیباف نے کہا: "دوسرے دور میں بھی مسٹر ٹرمپ نے دوبارہ بات چیت کی بات کی اور ایران نے بھی بات چیت میں حصہ لیا، لیکن مذاکرات کے چھٹے دور کے آغاز سے دو دن پہلے، 13 جون 2025 کو، انھوں نے مذاکرات کی میز پر بمباری کر دی۔ اگر مذاکرات کا مقصد یہی ہے، تو یہ نہ تو مذاکرات ہیں اور نہ ہی بات چیت یا مکالمہ۔
سفارت کاری کو باہمی احترام اور ضمانت پر مبنی ہونا چاہئے
اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر نے کہا: "ہم بات چیت اور سفارت کاری کے اصول کو مسترد نہیں کرتے، لیکن سفارت کاری حقیقی، متوازن اور قابل اعتماد ہونی چاہئے اور دونوں فریقوں کے باہمی احترام پر مبنی ہونی چاہئے۔ ڈپلومیسی کو ضمانت کی ضرورت ہوتی ہے اور بغیر اعتماد اور ضمانت کے کوئی سفارت کار نہ ممکن ہے اور نہ ہی مفید۔"
قالیباف نے مزید کہا: "دھمکی اور جنگ کے سائے میں، اور فوجی طاقت کے سائے میں، بات چیت اور سفارت کاری کسی مسئلے کو حل نہیں کرتی؛ بلکہ یہ صرف تناؤ اور عدم تحفظ میں اضافہ کرتی ہے۔ نہ صرف ہمارے اور ہماری قوم کے لئے، بلکہ عالمی رائے عامہ اور یہاں تک کہ امریکی قوم کے لئے بھی سوال یہ ہے کہ واقعی ان کارروائیوں اور ردعمل کے ساتھ صدر ٹرمپ پر دوبارہ کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ جب تک ایران کے عوام کے حقوق کی کوئی ضمانت نہیں ہے، ایران کے عوام کے مفادات اور اقتصادی فوائد کو یقینی نہیں بنایا جاتا، اور ایران کی قومی عزت کا احترام نہیں کیا جاتا، فطری طور پر مذاکرات کا کوئی سوال ہی نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ ہم استحصال، ٹھونس اور ہتھیار ڈالنے اور ہار ماننے کو پر فریق مقابل کے اصرار کو مذاکرات نہیں سمجھتے۔"
انھوں نے مزید کہا: "میرے خیال میں، اگر ٹرمپ واقعی سچے ہیں، اگر وہ سچ بول رہے ہیں اور اگر وہ امن کے خواہش مند ہیں اور یہاں تک کہ اگر امن کا نوبل انعام ملنے کا دعویٰ کرتے ہیں، تو انہیں حقیقی امن کی طرف بڑھنا چاہئے۔ ان کا پہلا اقدام یہ ہے کہ وہ اپنے ارد گرد جنگ پسندوں اور دوسرے ملکوں کو ہار ماننے پر مجبور کرنے کے خواہشمند افراد سے جان چھڑائیں تاکہ ہماری قوم اور دنیا ان کی بات پر بھروسہ کر سکیں۔"
قالیباف نے میزبان سے خطاب کرتے ہوئے کہا: آپ نے کہا کہ امریکہ بات چیت کی بات کرتا ہے۔ میں پہلے یہ کہنا چاہوں گا کہ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ اس بات چیت سے کس قسم کی بات چیت مراد ہے۔ اگر بات چیت ایک حقیقی گفتگو ہو اور بین الاقوامی آداب، ضوابط اور اصولوں کے دائرے میں ہو، تو ہاں۔"
ہم بین الاقوامی عدالتوں میں اپنے مقتولوں کا خونخواه ہوں گے
مجلس شورائے اسلامی کے سربراہ نے مزید کہا: "آپ جانتے ہیں کہ ایرانی عوام خود دہشت گردی کا شکار ہیں اور ہم اس تشدد کا شکار ہوئے ہیں، انقلاب کے آغاز میں، آپ نے اسلامی جمہوری پارٹی میں دھماکہ دیکھ لیا۔ یہی مجرم، جنہیں آج مغرب، یورپ اور امریکہ نے پناہ دی ہے، انہوں نے ہماری پارلیمنٹ کے ارکان، اسلامی جمہوری پارٹی کے ارکان، ہمارے صدر، ہمارے وزیر اعظم اور اس ملک کے 17,000 سے زیادہ لوگوں کو شہید کر دیا۔"
قالیباف نے کہا: "آج ہم اس تلخ واقعے پر بہت افسردہ اور دل شکستہ ہیں جو پیش آیا۔ اس واقعے میں ہمارے 2,500 سے زیادہ لوگوں نے اپنی جانیں گنوا دی؛ وہ اسی ملک کے بیٹے تھے اور ہماری بیٹیاں تھیں۔ ہمارا یقینی فرض ہے کہ ہم اس معاملے کی سنجیدگی سے اور خصوصی طور پر پیروی کریں۔ ہم پارلیمنٹ میں، ان عوام کے نمائندے ہیں اور اس معاملے پر بہت افسردہ ہیں۔"
انھوں نے کہا: "ہم اس واقعے کو امریکہ اور اسرائیل سمیت بیرونی دشمنوں کی یقینی سازش اور ان کی براہ راست مداخلت کا نتیجہ سمجھتے ہیں؛ ایسی مداخلت جس کا انہوں نے خود اقرار کیا ہے اور اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ آج بھی ہم ان شہداء کے حقوق اور خونخواهی کے درپے ہیں اور ہم اس معاملے کو بین الاقوامی عدالتوں کے ذریعے آگے بڑھائیں گے۔ اس قسم کی مداخلت اور جرائم جن کا انہوں نے ارتکاب کیا ہے، ان کی پیروی کی جانی چاہئے اور انہیں جوابدہ ٹھہرانا چاہئے اور ان کا مؤاخذہ ہونا چاہئے۔"
مجلس کے اسپیکر نے مزید کہا: "فطری طور پر ملک کے اندر بھی ہم اس معاملے کی شفاف اور واضح پیروی کریں گے اور عدالتی کارروائی کی جائے گی۔ ہم ان عزیزوں کی خونخواهی اور اس جرم کی مختلف جہتوں میں اس کی تفتیش و تحقیق سے لمحہ بھر کے لئے بھی، غفلت نہیں کریں گے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ