27 جنوری 2026 - 16:11
طالبان کا فوجداری ضابطہ افغانستان کو تاریک دور میں دھکیل دے گا، پاکستانی سفارتکار

افغانستان کے لیے پاکستان کے سابق خصوصی نمائندے محمد آصف درانی نے طالبان کے فوجداری ضابطے کو ایسا دستاویز قرار دیا ہے جو افغان معاشرے کو ایک بار پھر تاریکی کے دور کی طرف لے جا رہا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، افغانستان کے لیے پاکستان کے سابق خصوصی نمائندے محمد آصف درانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک سخت بیان میں طالبان کی عدالتوں کے فوجداری ضابطے کو افغانستان کو ’’تاریک دور‘‘ کی جانب دھکیلنے والا قرار دیا ہے۔

انہوں نے خاص طور پر 9 سالہ بچیوں کو شادی کے قابل قرار دینے، علما اور اشرافیہ کو قانونی کارروائی سے استثنا دینے، غلامی کو جائز قرار دینے اور خواتین و بچوں کے خلاف جنسی اور نفسیاتی تشدد پر پابندی نہ لگانے پر شدید تنقید کی۔ محمد آصف درانی نے خبردار کیا کہ یہ ضابطہ ایک ایسے قدامت پسند اور پسماندہ معاشرے کی عکاسی کرتا ہے جس پر افغان عوام کا حتمی ردعمل ابھی سامنے آنا باقی ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ اکیسویں صدی میں علما قانون سے بالاتر ہوں، قانون اشرافیہ کے خلاف کارروائی نہ کر سکے یا انسانوں کو غلام بنا کر سزا دی جائے۔

محمد آصف درانی کے مطابق اس ضابطے کا سب سے زیادہ چونکا دینے والا پہلو 9 سالہ بچیوں کی شادی کی اجازت ہے، جو ان کے بقول افغانستان میں صدیوں سے چلی آ رہی ایک روایت ہے، جہاں اکثر بچیوں کو خاندان کی آمدن کا ذریعہ بنا کر ’’ولور‘‘ کے عوض بیاہ دیا جاتا ہے۔

یہ فوجداری ضابطہ حال ہی میں طالبان کے سربراہ ہبت اللہ اخوندزادہ کی منظوری کے بعد عدالتوں کو نافذ کرنے کے لیے ارسال کیا گیا، جس پر انسانی حقوق کی تنظیم ’’رواداری‘‘ نے بھی سخت تنقید کی ہے۔

رواداری کے مطابق اس دستاویز میں غیر حنفی مسالک کے پیروکاروں کو گمراہ قرار دے کر مذہبی امتیاز کو فروغ دیا گیا ہے، سماجی طبقاتی نظام اور غلامی کو جائز ٹھہرایا گیا ہے، خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کو صرف شدید جسمانی تشدد تک محدود کر کے جنسی اور نفسیاتی تشدد کو نظرانداز کیا گیا ہے، طالبان مخالفین کو باغی قرار دے کر ان کے قتل کے احکامات دیے گئے ہیں، جبکہ منصفانہ عدالتی کارروائی کے اصولوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں من مانے گرفتاریاں، تشدد اور کریک ڈاؤن کے خدشات میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔

اس فوجداری ضابطے کی منظوری کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں، سیاسی حلقوں اور بین الاقوامی مبصرین میں گہری تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ کئی حلقوں نے اسے افغانستان میں امتیازی اور قرونِ وسطیٰ کے نظام کی کھلی واپسی قرار دیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha