اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایک نجی کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوران ہیلمٹ پر فلسطینی پرچم لگانے والے کشمیری کرکٹر کے خلاف جموں و کشمیر پولیس نے ابتدائی انکوائری شروع کر دی ہے۔ پولیس نے یہ کارروائی بھارتیہ نیائے سنہتا (BNSS) کی دفعہ 173(3) کے تحت کی ہے، جس کے تحت 14 دن کی ابتدائی جانچ کی جائے گی۔
پولیس حکام کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا، جس میں ایک کرکٹ کھلاڑی کو جموں کے علاقے کے سی ڈور، متھی میں کھیلے جانے والے میچ کے دوران اپنے ہیلمٹ پر فلسطین کا پرچم دکھاتے ہوئے دیکھا گیا۔
کھلاڑی کی شناخت فرقان بھٹ کے طور پر ہوئی ہے، جو ضلع پلوامہ کے علاقے تنگی پونا کا رہائشی ہے۔ فرقان بھٹ جموں و کشمیر چیمپئنز لیگ (JKCL) کے تحت جاری ٹورنامنٹ میں مقامی ٹیم JK11 کی جانب سے جموں ٹریل بلیزرز کے خلاف کھیل رہا تھا۔ یہ لیگ چند دن قبل جموں ضلع میں شروع ہوئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جموں میں بعض حلقوں نے کھلاڑی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، جس کے بعد جموں پولیس نے فرقان بھٹ اور ٹورنامنٹ کے منتظم زاہد بھٹ کو طلب کر کے پوچھ گچھ کی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی حساسیت اور امن و امان پر ممکنہ اثرات کے پیش نظر انکوائری کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ حقائق، کھلاڑی کے ارادے، پس منظر اور کسی بھی ممکنہ تعلق یا لنک کا پتہ لگایا جا سکے۔ تاہم اب تک اس معاملے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن (JKCA) نے واضح کیا ہے کہ اس ٹورنامنٹ سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور مذکورہ کھلاڑی ایسوسی ایشن سے وابستہ نہیں ہے۔
جموں میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کھلاڑی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بی جے پی کے سینئر رہنما اور ایم ایل اے آر ایس پٹھانیا نے کہا کہ “یہ واقعہ کرکٹ کے میدان کو کسی مبینہ تخریبی ایجنڈے کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے یا پھر یہ بھارت کے سرکاری موقف سے لاعلمی کا مظہر ہے”، اور انہوں نے حکام سے معاملے کی تفصیلی جانچ کا مطالبہ کیا۔
آپ کا تبصرہ