3 جنوری 2026 - 16:25
مآخذ: ابنا
بہار میں مسلمان مزدور پر تشدد،بنگلہ دیشی قرار دے کر حملہ

بھارتی ریاست بہار کے ضلع مدھوبنی میں ایک مسلمان مزدور کو ’’بنگلہ دیشی‘‘ قرار دے کر بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔

بہار میں مسلمان مزدور پر تشدد،بنگلہ دیشی قرار دے کر حملہ

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی ریاست بہار کے ضلع مدھوبنی میں ایک مسلمان مزدور کو ’’بنگلہ دیشی‘‘ قرار دے کر بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔ واقعے نے ایک بار پھر جھوٹی شہریت کے الزامات پر ہونے والے ہجومی تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش پیدا کر دی ہے۔

متاثرہ شخص کی شناخت نورشید عالم کے نام سے ہوئی ہے، جسے حملے میں سنگین چوٹیں آئیں۔ اطلاعات کے مطابق، حملہ آوروں نے دعویٰ کیا کہ نورشید عالم کے موبائل فون میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے نمبرز محفوظ ہیں، جسے انہوں نے اس کے غیر ملکی ہونے کا ’’ثبوت‘‘ قرار دیا۔

واقعے کی ایک ویڈیو میں ایک حملہ آور کو نورشید عالم کا موبائل فون پکڑے یہ کہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ اس میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے نمبرز موجود ہیں۔ تاہم بعد ازاں پولیس نے وضاحت کی کہ فون سے کوئی قابلِ اعتراض مواد برآمد نہیں ہوا۔

نورشید عالم، جس کے سر پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں اور جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں، نے بتایا کہ حملہ اس وقت شروع ہوا جب وہ کچھ نعروں کو مکمل طور پر نہیں دہرا سکا۔ اس کے مطابق، اس سے ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ لگانے کو کہا گیا اور ہچکچاہٹ ظاہر کرنے پر اس پر شک کیا گیا، جس کے بعد تشدد کیا گیا۔

متاثرہ مزدور نے کہا کہ اسے بار بار اس کی شہریت کے بارے میں سوالات کرتے ہوئے مارا پیٹا گیا اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ حملہ اس کی مسلم شناخت کی بنیاد پر کیا گیا۔

پولیس نے اپنے سرکاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ نورشید عالم ضلع سُوپول کا رہائشی ہے اور اس کے غیر ملکی ہونے کے دعوؤں کو مسترد کر دیا گیا ہے۔

اس واقعے کے سلسلے میں قتل کی کوشش کے الزام میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ مدھوبنی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس یوگیندر کمار نے بتایا کہ پولیس نے فوری کارروائی کی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اب تک دو نامزد افراد کی شناخت ہو چکی ہے اور باقی ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جنہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔‘

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک میں جھوٹی شہریت کے الزامات کی بنیاد پر تشدد کے واقعات پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے، حالانکہ پولیس بار بار واضح کر رہی ہے کہ متاثرہ شخص بہار کا رہائشی اور بھارتی شہری ہے۔

واضح رہے کہ چند ہفتے قبل کیرالہ کے پالکّڑ میں چھتیس گڑھ سے تعلق رکھنے والے ایک دلت مزدور کو چور قرار دے کر ہجوم نے قتل کر دیا تھا، جہاں ویڈیو میں ایک حملہ آور کو یہ پوچھتے ہوئے سنا گیا تھا کہ ’’کیا تم بنگلہ دیشی ہو؟‘‘

اسی طرح ایک اور حالیہ واقعے میں وائرل ویڈیو میں ایک پولیس اہلکار کو ایک مسلمان شخص کی پیٹھ پر مبینہ طور پر موبائل فون رکھ کر بستی کے لوگوں کو یہ دھمکاتے ہوئے دیکھا گیا کہ یہ آلہ ’’غیر قانونی تارکینِ وطن‘‘ کی شناخت کر سکتا ہے، جبکہ متاثرہ شخص خود کو ضلع اریریا کا رہائشی بتاتا رہا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha