2 جنوری 2026 - 16:13
غزہ اور مغربی کنارہ اسرائیل کے ہیںک فلسطینی عارضی مہمان ہیں۔ اسرائیلی وزیر کی ہرزہ سرائی

صہیونی ریاست کے وزیر ثقافت میکو زوہار (Miki Zohar) نے دعویٰ کیا کہ "غزہ اسرائیل کا ہے اور غزہ پٹی کے فلسطینی ایسے مہمان ہیں جنہیں اسرائیلی حکام نے وہاں عارضی قیام کی اجازت دی ہے۔"

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسرائیلی ویب سائٹ "ٹائمز آف اسرائیل" نے جمعے کے روز اس وزیر کے حوالے سے کہا کہ ریاست "فلسطینیوں کو محدود مدت کے لئے مہمان کے طور پر وہاں رہنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن غزہ اسرائیل کا ہے۔"

اس ویب سائٹ کے مطابق، اسرائیلی ریاست کے ریڈیو کے مطابق، زوہار نے دعویٰ کیا کہ "مغربی کنارہ بھی اسرائیل کا ہے اور ہم 'اپنی زمین' کے 'قابض' نہیں ہیں۔"

غزہ پٹی کی جنگ 8 اکتوبر 2013 کو صہیونی ریاست کے اس علاقے پر فوجی حملے سے شروع ہوئی اور دو سال سے زیادہ جاری رہی۔ اس جنگ میں غزہ پٹی کے کئی شہر اور گاؤں تباہ ہو گئے، ہسپتال اور طبی مراکز یا تو مکمل طور پر تباہ ہو گئے یا سروس کے دائرے سے باہر ہو گئے۔ اس جنگ میں 71 ہزار سے زیادہ افراد شہید اور ایک لاکھ 71 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔

غزہ پٹی پر امریکی حمایت یافتہ صہیونی جارحیت نے فلسطینیوں کی نسل کشی کے علاوہ وسیع تباہی مچائی جس کے نتیجے میں غزہ پٹی کے 90 فیصد بنیادی ڈھانچے تباہ ہو گئے اور اقوام متحدہ نے اس نقصان کی مرمت کی لاگت تقریباً 70 ارب ڈالر لگائی ہے۔

علاقائی اور بین الاقوامی ثالثوں نے ـ غزہ میں فوجی کارروائیوں اور انسانی المیے میں اضافے کے ساتھ، ـ مصر اور قطر کی قیادت اور امریکی حمایت میں، جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دیں۔

ان کوششوں کے نتیجہ میں ایک جنگ بندی سمجھوتے کی صورت میں بر آمد ہؤا جس کے پہلے مرحلے پر 10 اکتوبر 2025 کو عمل درآمد کیا گیا۔ اس مرحلے میں دشمنیوں کا عارضی طور پر رک جانا، دونوں فریقوں کے قیدیوں کی رہائی اور غزہ پٹی میں فوری انسانی امداد کی ترسیل شامل تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha