3 جنوری 2026 - 16:18
مآخذ: ابنا
تریپورہ میں مسلمان رکشہ پلر کو ریت میں دفن کر کے آگ لگانے کی کوشش

بھارتی ریاست تریپورہ کے دارالحکومت اگرتلہ میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں نامعلوم حملہ آوروں نے ایک مسلمان رکشہ پلر کو قتل کرنے کی نیت سے تشدد کا نشانہ بنایا، اسے ریت میں آدھا دفن کیا اور آگ لگانے کی کوشش کی۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی ریاست تریپورہ کے دارالحکومت اگرتلہ میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں نامعلوم حملہ آوروں نے ایک مسلمان رکشہ پلر کو قتل کرنے کی نیت سے تشدد کا نشانہ بنایا، اسے ریت میں آدھا دفن کیا اور آگ لگانے کی کوشش کی۔ واقعہ جمعرات کی شام پیش آیا جس پر شہر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

متاثرہ شخص کی شناخت دیدار حسین کے نام سے ہوئی ہے جو پیشے کے اعتبار سے رکشہ چلاتا ہے اور اگرتلہ کے علاقے ابھینگر کا رہائشی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، یکم جنوری کی شام تقریباً 6:30 بجے گنگائل نیویدیتا کلب کے قریب چار سے پانچ نامعلوم افراد نے اس پر حملہ کیا۔

حملے میں زندہ بچ جانے والے دیدار حسین نے درگا چوموہانی آؤٹ پوسٹ میں تحریری شکایت درج کرائی۔ ایف آئی آر کے مطابق، حملہ آوروں نے اس کا راستہ روکا، بے رحمی سے مارپیٹ کی اور بعد ازاں اسے ریت کے ڈھیر میں زبردستی دھکیل کر آگ لگا کر قتل کرنے کی کوشش کی۔

دیدار حسین نے بتایا کہ وہ شدید جسمانی اور ذہنی صدمے کا شکار ہوا اور حملہ آور اس وقت فرار ہو گئے جب اس کی چیخ و پکار سن کر لوگ متوجہ ہونے لگے۔ متاثرہ شخص اس وقت طبی علاج کے مراحل سے گزر رہا ہے۔

ایک مقامی رہائشی حبیب الرحمٰن نے میڈیا کو بتایا کہ دیدار حسین سے پہلے اس کا نام پوچھا گیا اور بعد میں حملہ آوروں نے بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر ہونے والے مبینہ تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق، جب دیدار حسین نے پوچھا کہ اس کا قصور کیا ہے تو جواب میں سرحد پار اقلیتوں پر حملوں کا ذکر کیا گیا۔

اپنی شکایت میں دیدار حسین نے اس واقعے کو ’’سنگین، بہیمانہ اور ناقابلِ ضمانت جرم‘‘ قرار دیا ہے۔

پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں دفعہ 109 (قتل کی کوشش)، دفعہ 115(2) (شدید جسمانی نقصان) اور دفعہ 326 (آگ کے ذریعے جان لینے یا کوشش) شامل ہیں۔

واقعے کے بعد اگرتلہ میں شدید عوامی ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے احتجاجی مارچ میں شرکت کی اور ملزمان کی فوری گرفتاری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

احتجاج میں کانگریس کے رکنِ اسمبلی سدیپ رائے برمن اور ٹی آئی پی آر اے موتھا کے رہنما شاہ عالم بھی شریک ہوئے۔ شاہ عالم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے تاحال ایف آئی آر درج کرنے کے علاوہ کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی، اور اقلیتوں سے متعلق دیگر معاملات میں بھی یہی طرزِ عمل اختیار کیا جا رہا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha