اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو انہوں نے بھاری تجارتی پابندیوں کی دھمکی دے کر ختم کرایا۔
واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر دونوں ممالک لڑائی بند نہ کرتے تو وہ پاکستان اور بھارت پر 200 فیصد ٹیرف عائد کر دیتے، جس کے بعد دونوں ممالک کو امریکی تجارت سے ہاتھ دھونا پڑتا۔ ٹرمپ کے اس بیان کے دوران تقریب میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف بھی شریک تھے۔ ٹرمپ نے مختلف عالمی تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اپنی صدارتی مدت کے پہلے سال میں ہی انہوں نے آٹھ جنگیں رکوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
تقریب کے دوران ٹرمپ نے شہباز شریف کو کھڑے ہونے کا کہا اور بتایا کہ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی رابطہ کیا تھا، جو بقول ان کے اس پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
امریکی صدر کے مطابق اس وقت صورتحال تیزی سے بگڑ رہی تھی، طیارے گرائے جا رہے تھے اور دونوں ممالک مکمل تصادم کی طرف بڑھ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے دونوں قیادتوں کو واضح پیغام دیا کہ ’’اگر کشیدگی ختم نہ ہوئی تو امریکہ کوئی تجارتی معاہدہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ چونکہ دونوں ممالک کی امریکہ کے ساتھ بڑی تجارت ہے، اس لیے معاشی نقصان کے خدشے نے انہیں مذاکرات پر آمادہ کیا اور چند ہی دنوں میں صورتحال بدلنے لگی۔ انہوں نے پاکستانی قیادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شہباز شریف اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر پسند ہیں اور دونوں نے کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کیا۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ یہ تنازع دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تھا اور اگر حالات قابو میں نہ آتے تو سنگین نتائج سامنے آ سکتے تھے۔ ان کے مطابق اس عمل سے نہ صرف جنگ ٹلی بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بھی کچھ بہتری آئی۔ ٹرمپ کے یہ بات زور دیکر کہی کہ ہم نے کیا، ہم نے کر دیکھایا۔ ہم نے کہا کہ یہ دو بہت طاقتور، دو جوہری ممالک ہیں۔
اور میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ کیا ہونے والا ہے، لیکن، آپ جانتے ہیں کہ بری چیزیں ہوتی رہتی ہیں، اس لیے، وزیر اعظم، میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ یہ ایک بہت بڑی بات تھی۔ لوگوں کو اس کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’وہ لڑ ہی نہیں رہے تھے۔‘ وہ لڑ رہے تھے، گیارہ طیارے گرائے گئے جو بہت ہی مہنگے تھے۔ لیکن اب جنگ نہیں ہو رہی۔
تاہم بھارت مسلسل اس موقف پر قائم ہے کہ جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کسی تیسرے فریق کی مداخلت سے نہیں بلکہ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان براہ راست رابطوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔
واضح رہے کہ ٹرمپ اس سے قبل بھی متعدد بار یہ دعویٰ دہرا چکے ہیں کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ تصادم کو رکوانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، جس پر سفارتی حلقوں میں بحث جاری ہے۔
آپ کا تبصرہ