بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یہ ملک، گذشتہ تین مہینوں میں، امریکہ سے اپنے پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹمز کے لئے صرف 24 انٹرسیپٹر میزائل حاصل کر سکا ہے، جبکہ روسی حملوں سے دفاع کے لئے اسے ماہانہ تقریباً 350 انٹرسیپٹر میزائلوں کی ضرورت ہے!
زیلنسکی نے اے بی سی نیوز (ABC News) کو انٹرویو دیتے ہوئے انٹرسیپٹر میزائلوں کی داخلی ضروریات اور یوکرین پر فضائی حملوں کے حجم کے درمیان فرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ روسی افواج نے صرف 22 اکتوبر کے حملوں میں 20 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے۔
زیلنسکی نے مزید کہا: "میں نے گذشتہ 90 دنوں میں، اپنے اسٹریٹجک پارٹنر [امریکہ] سے صرف 24 میزائل حاصل کئے ہیں۔ ہم روتے نہیں ہیں اور چیختے نہیں ہیں، لیکن یہ بہت اہم ہے۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر میزائل اہمیت رکھتا ہے۔"
زیلنسکی نے اس موضوع میں ایران کے خلاف فوجی جارحیت کی مثال دی اور کہا کہ مغربی ایشیا میں تنازع کے صرف پہلے 48 گھنٹوں میں تقریباً 2000 انٹرسیپٹر میزائل [ایرانی میزائل اور ڈرون روکنے کے لئے] استعمال ہوئے۔
دوسرے الفاظ میں، یوکرینی صدر نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کا ناخواستہ اعتراف کرتے ہوئے یاددہانی کرائی کہ ایران نے اپنے خلاف فوجی جارحیت کے صرف پہلے دو دنوں میں امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو 2000 پیٹریاٹ میزائل استعمال کرنے پر مجبور کر دیا، ایسا دفاعی نظام جس کے میزآئل پوری دنیا میں بہت کم ہیں۔
یوکرین کے صدر نے وضاحت کی: "پہلے 84 (48) گھنٹوں میں، ایران پر حملہ کرنے والوں نے اپنے شراکت داروں سے حاصل کردہ تقریباً 2000 میزائل داغے۔"
یوکرینی فوجی حکام نے بارہا اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ امریکی ساختہ پیٹریاٹ PAC-2 اور PAC-3 انٹرسیپٹر میزائلوں کو ایران کے گرد تنازع کے لئے مختص کیا گیا ہے۔
تاہم، ٹرمپ سمیت امریکی حکومت کے دوسرے حکام نے ہمیشہ امریکہ کے حملہ آور اور دفاعی میزائلوں کی قلت کے بارے میں آنے والی رپورٹوں کی تردید کی ہے، یہ بھول کر، کہ واشنگٹن اپنے اتحادی یوکرین کی ضرورت پوری کرنے سے عاجز ہے، اور یہ وہ حقیقت ہے جو دنیا والوں کے سامنے ہے اور ان زمینی حقائق کے سامنے زبانی دعوے لاحاصل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ