اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، گزشتہ دو روز کے دوران سعودی عرب کے فضائی حملوں میں درجنوں یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے، جس کے جواب میں یمن کی مسلح افواج نے سعودی عرب کے اندر دور تک اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے اپنی اب تک کی وسیع ترین کارروائیاں کیں۔
یہ کارروائیاں پرسوں سے شروع ہوئیں، جن میں ریاض کے شاہ خالد ہوائی اڈے، دمام کے شاہ فہد ہوائی اڈے اور مختلف علاقوں میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملے گزشتہ روز بھی جاری رہے اور ریاض سے جدہ سمیت سعودی عرب کے متعدد جنوبی شہروں تک پھیل گئے۔
لبنانی اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب نے ماضی کی طرح ان حملوں کے دباؤ میں یمن پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کا الزام لگانے کی کوشش کی۔
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ سریع نے اس الزام کو سب سے بڑا بہتان قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یمنی افواج صرف سعودی دشمن کی آرامکو تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
صنعاء میں موجود باخبر فوجی ذرائع نے الاخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ دو روز کے دوران کارروائیاں نہیں رکیں۔ ان کے مطابق، یہ گزشتہ 20 جولائی کو کشیدگی میں اضافے کے آغاز کے بعد سے اب تک کی سب سے وسیع کارروائیاں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن کی مسلح افواج حالیہ دنوں میں زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی پر عمل درآمد کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
جاری کیے گئے بیانات کے مطابق، یمنی افواج نے شاہ خالد ہوائی اڈے کو اپنے اہم اہداف میں سرفہرست رکھا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر تمام بین الاقوامی فضائی کمپنیوں، عملے اور مسافروں کو اس ہوائی اڈے کے استعمال کے خطرات سے خبردار کیا اور کہا کہ اس کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب سعودی شہری ہوا بازی کی اتھارٹی نے اعلان کیا کہ وہ گزشتہ روز سے اس ہوائی اڈے کی سرگرمیاں بتدریج بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں یمنی افواج کے حملوں کے باعث یہ ہوائی اڈہ بند کر دیا گیا تھا۔
سعودی ہوائی اڈوں کو نقصان، پروازوں کا نظام متاثر
صنعاء کے فوجی ذرائع نے الاخبار کو تصدیق کی کہ گزشتہ دو روز کے دوران شاہ خالد ہوائی اڈے کو کئی بھاری میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اس کے مختلف حصوں کو شدید نقصان پہنچا۔ ذرائع کے مطابق، دوسرے ہوائی اڈوں کو بھی عملی طور پر بند کرنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
دوسری جانب، سعودی کارکنوں نے بتایا کہ دمام کے شاہ فہد ہوائی اڈے کی سرگرمیاں گزشتہ روز صبح سویرے سے کئی مرتبہ معطل ہوئیں۔ فضائی آمدورفت کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس نے بھی اطلاع دی کہ گزشتہ روز جدہ کے شاہ عبدالعزیز ہوائی اڈے کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے گزشتہ روز علی الصبح ریاض اور سعودی عرب کے دیگر علاقوں پر یمنی افواج کے حملوں کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فضائی دفاعی نظام نے متعدد حملوں کو روک لیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی ریاض میں سعودی تیل کی ایک تنصیب میں آگ لگنے کی اطلاع دی اور ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شاہ خالد ہوائی اڈے کے قریب دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
سعودی شہری دفاع کے انتباہات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ دو روز کے دوران یمنی افواج کے میزائل حملے سعودی عرب کے اندرونی علاقوں تک جاری رہے۔
یمن: ریاض کے ہوائی اڈے کی بحالی، صنعاء کے ہوائی اڈے کی بحالی سے مشروط
یمن کے ایک فوجی ذریعے نے الاخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہ خالد ہوائی اڈے کی سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ اب صرف ریاض کے اختیار میں نہیں، بلکہ اس کا انحصار صنعاء کے ہوائی اڈے کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے پر ہے۔
اس ذریعے نے ’’ہوائی اڈے کے بدلے ہوائی اڈہ‘‘ کے اصول کو واضح قرار دیتے ہوئے کہا کہ یمنی مسلح افواج شاہ خالد ہوائی اڈے پر عائد فضائی ناکہ بندی ختم کرنے کی ہر کوشش ناکام بنا دیں گی اور دوسرے ہوائی اڈوں کو بھی بند کرنے کی کارروائیاں جاری رکھیں گی، یہاں تک کہ سعودی عرب یمنی عوام کے جائز مطالبات تسلیم کر لے۔
سعودی ہوائی اڈوں پر حالیہ حملے سعودی جنگی طیاروں کی جانب سے صنعاء، حدیدہ، تعز اور صعدہ پر کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ ان حملوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی، جن کے نتیجے میں 21 یمنی شہری شہید اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ متاثرین کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل تھی۔
سعودی عرب کے جنوبی اور مشرقی علاقوں تک حملوں کا پھیلاؤ
دفاعی توازن برقرار رکھنے اور براہ راست جواب دینے کی حکمت عملی کے تحت یمنی مسلح افواج نے اپنے میزائل یونٹوں اور ڈرونز کے ذریعے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں فوجی اور اقتصادی اہداف پر وسیع حملہ کیا۔
سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے جنوبی علاقوں پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی میں 14 سے زیادہ میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے۔ تاہم، صنعاء کے مبصرین کا خیال ہے کہ المالکی کی جانب سے حملوں کے ایک حصے کا اعتراف اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ یمنی کارروائیوں سے سعودی عرب کو اس سے زیادہ نقصان پہنچا ہے جتنا ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ان مبصرین کے مطابق، سعودی عرب ایک طرف فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف حملوں کا دائرہ جنوبی علاقوں سے مشرق تک پھیلنے کے باعث ان کی قیمت بھی بڑھ رہی ہے۔
یمن کے اندر سعودی عرب کے حامی گروہوں کے ٹھکانوں پر حملے
یمن کے اندر بھی مسلح افواج نے گزشتہ روز لحج اور عدن کے صوبوں میں سعودی عرب سے وابستہ فورسز کے اجتماع کے مقامات کے خلاف پیشگی کارروائیاں جاری رکھیں۔
یمنی افواج نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے عدن شہر میں النصر کیمپ اور بحری فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ اس اڈے کی تیاری کی نگرانی سعودی افسران کر رہے ہیں، جن کی سربراہی بریگیڈیئر بدر صلاح الحربی کے پاس ہے۔
لحج میں مقامی ذرائع نے بھی بتایا کہ ’’درع الوطن‘‘ فورسز سے وابستہ گروہوں کو اسی نوعیت کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کے علاوہ، یمنی مسلح افواج کے جنگی میڈیا مرکز نے مأرب صوبے کے جنوبی علاقے میں واقع الفلیحہ محاذ پر سعودی عرب کے حامی فورسز پر حملے کی تصاویر جاری کیں۔ اس محاذ کی نگرانی سعودی بریگیڈیئر فارس الشمری کے ذمے ہے۔
آپ کا تبصرہ