اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت میں دائیں اور بائیں بازو کے درمیان مقابلہ اب صرف وزارتِ عظمیٰ حاصل کرنے کی جدوجہد تک محدود نہیں رہا، بلکہ فلسطینی علاقوں، سیاسی حل، معیشت، سیاسی نظام کی نوعیت اور حکومت و عدلیہ کے اختیارات کی حدود سے متعلق وسیع تر کشمکش میں تبدیل ہو چکا ہے۔
1977 میں لیکوڈ پارٹی کی کامیابی کے بعد صیہونی حکومت میں سیاسی طاقت کا توازن بدلنے لگا۔ بائیں بازو کی پوزیشن کمزور ہوتی گئی، جبکہ دائیں بازو اور اس کے مذہبی و قوم پرست اتحاد زیادہ طاقتور ہوتے گئے۔
1977 کا سیاسی زلزلہ؛ بائیں بازو کی بالادستی کا خاتمہ
1976 کے اواخر میں اسحاق رابین کی حکومت کو 1973 کی جنگ میں ناکامیوں کے باعث عوامی غصے کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دوران مالی بدعنوانی اور دیگر اسکینڈلز نے بھی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ بالآخر رابین کو استعفیٰ دینا پڑا، پارلیمنٹ تحلیل کر دی گئی اور انتخابات مئی 1977 میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔
17 مئی 1977 کو مناحم بیگن کی قیادت میں لیکوڈ پارٹی نے انتخابات جیت لیے۔ اس کامیابی کے ساتھ صیہونی حکومت کے قیام سے لے کر اس وقت تک جاری لیبر پارٹی کی بالادستی ختم ہو گئی۔
لیکوڈ کی کامیابی میں مشرقی یہودیوں، جنہیں ’’مزراحی‘‘ کہا جاتا ہے، کی حمایت نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ وہ طبقہ تھا جو تاریخی طور پر بائیں بازو سے وابستہ اشکنازی اشرافیہ کی جانب سے امتیازی سلوک اور سماجی محرومی کا شکار رہا تھا۔
بیگن کے اقتدار میں آنے کے بعد صیہونی حکومت میں ایسی سیاسی سوچ کو تقویت ملی جو قوم پرستی کو مذہبی شناخت سے جوڑتی تھی، آزاد منڈی کی معیشت کی حمایت کرتی تھی اور ’’سرزمینِ کامل اسرائیل‘‘ کے نظریے پر قائم تھی۔ یہ سوچ سوشلسٹ اور سیکولر بائیں بازو کے سیاسی ورثے سے مختلف تھی۔
اوسلو معاہدے؛ فلسطین کا مسئلہ صیہونی سیاست کے مرکز میں
1982 کی لبنان جنگ اور اقتصادی بحران کے بعد 1984 کے انتخابات نے ظاہر کیا کہ دونوں بڑے سیاسی دھڑوں میں سے کوئی بھی واضح اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ شمعون پیریز کی قیادت میں لیبر پارٹی نے 44 نشستیں حاصل کیں، جبکہ اسحاق شامیر کی قیادت میں لیکوڈ پارٹی کو 41 نشستیں ملیں۔ دونوں جماعتوں نے قومی اتحاد کی حکومت قائم کی اور وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داری باری باری سنبھالنے پر اتفاق کیا۔
1987 میں پہلی فلسطینی انتفاضہ شروع ہونے کے بعد فلسطینی علاقوں کے مستقبل پر اختلافات مزید گہرے ہو گئے۔ بالآخر 1990 میں مختلف تنازعات، خصوصاً امریکی امن منصوبے کے بارے میں اختلافات، کے باعث قومی اتحاد کی حکومت ٹوٹ گئی۔
1992 کے انتخابات میں اسحاق رابین کی قیادت میں لیبر پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئی۔ 1993 میں اس حکومت نے اوسلو معاہدوں پر دستخط کیے۔ ان معاہدوں کے تحت تنظیمِ آزادیِ فلسطین کو تسلیم کیا گیا اور فلسطینی اتھارٹی کے قیام کی راہ ہموار ہوئی، جسے فلسطینیوں کے کئی بڑے شہروں کا انتظام سنبھالنا تھا۔
رابین حکومت نے آبادکاری کے بعض غیر ضروری منصوبوں کے لیے مختص بجٹ بھی روک دیا اور وسائل گرین لائن کے اندر اسکولوں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی دوران سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا اور ٹیکنالوجی کے شعبے نے ترقی کی۔
تاہم، بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو نے اوسلو معاہدوں کی مخالفت کی۔ اس کا مؤقف تھا کہ مقبوضہ مغربی کنارے سے دستبرداری صیہونی حکومت کے تاریخی حق اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
بم دھماکوں کی کارروائیوں میں اضافے اور 1995 میں رابین کے قتل کے بعد نیتن یاہو نے 1996 کے انتخابات میں معمولی فرق سے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے فلسطینی علاقوں سے انخلا سے پہلے سکیورٹی تقاضوں کو پورا کرنے پر زور دیا۔
دوسری انتفاضہ اور اعتدال پسند سیاسی دھڑے کا ظہور
1999 میں ایہود باراک کی قیادت میں لیبر پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئی، لیکن 2000 میں کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کے دوران فلسطینیوں کے ساتھ حتمی معاہدہ کرنے میں ناکام رہی۔
دوسری فلسطینی انتفاضہ شروع ہونے اور جھڑپوں میں شدت آنے کے بعد باراک کو 2001 میں ایریل شیرون کے ہاتھوں شکست ہوئی۔
شیرون حکومت نے 2002 میں ’’آپریشن ڈیفنس شیلڈ‘‘ شروع کیا۔ یہ کارروائی اسی دور میں شروع ہوئی جب علیحدگی کی دیوار کی تعمیر کا منصوبہ بھی نافذ کیا جا رہا تھا۔
2005 میں غزہ کی پٹی سے صیہونی حکومت کے انخلا کے معاملے پر لیکوڈ پارٹی میں اختلافات پیدا ہوئے۔ شیرون نے پارٹی چھوڑ کر اعتدال پسند جماعت ’’کادیما‘‘ قائم کر لی، جو دو ریاستی حل کی حمایت کرتی تھی۔
2006 کے انتخابات میں کادیما صیہونی حکومت کی سب سے بڑی جماعت بن گئی، جبکہ لیکوڈ کی نشستیں کم ہو کر 12 رہ گئیں۔ تاہم، اس تبدیلی کا مطلب یہ نہیں تھا کہ روایتی بائیں بازو نے دوبارہ اقتدار حاصل کر لیا ہے۔
2009 کے انتخابات میں کادیما نے 28 اور لیکوڈ نے 27 نشستیں حاصل کیں۔ اس کے باوجود نیتن یاہو دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ لیبر پارٹی کی نشستیں کم ہو کر 13 رہ گئی تھیں۔
سیاسی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں ناکام ہونے کے ساتھ صیہونی حکومت میں بائیں بازو کی پوزیشن مزید کمزور ہوئی اور دائیں بازو کی بالادستی مضبوط ہوتی گئی۔
عدلیہ اور جنگِ غزہ؛ سیاسی اختلافات میں مزید شدت
2022 کے اواخر میں نیتن یاہو دوبارہ اقتدار میں آئے اور انہوں نے دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل حکومت تشکیل دی۔
2023 میں ان کی حکومت نے عدالتی نظام میں اصلاحات کا منصوبہ پیش کیا، جس کا مقصد سپریم کورٹ کے بعض اختیارات محدود کرنا اور ججوں کی تقرری کے عمل میں سیاست دانوں کا اثر و رسوخ بڑھانا تھا۔
اس منصوبے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گئے۔ اس کے حامیوں کا کہنا تھا کہ اس سے ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کا توازن قائم ہوگا، جبکہ مخالفین نے خبردار کیا کہ اس پر عمل درآمد سے عدلیہ کی آزادی اور حکومتی اقدامات کی نگرانی کمزور پڑ جائے گی۔
7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی مزاحمت کی جانب سے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد غزہ میں جنگ شروع ہوئی تو صیہونی حکومت کے اندرونی اختلافات مزید نمایاں ہو گئے۔ سلامتی اور غزہ کے مستقبل سے متعلق اختلافات شدت اختیار کر گئے۔
نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں نے فوجی کارروائیاں جاری رکھنے پر زور دیا، جبکہ مخالفین اور سکیورٹی و سیاسی حلقوں کی بعض شخصیات نے قیدیوں کی واپسی کو ترجیح دینے، جنگ کے بعد کے حالات کے لیے منصوبہ تیار کرنے اور سکیورٹی کی ناکامی کے ذمہ داروں کا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا۔
یوں صیہونی حکومت میں سیاسی کشمکش فلسطینی علاقوں اور سیاسی معاہدوں کے اختلاف سے آگے بڑھ کر ریاست کی شناخت، اس کی سلامتی، حکومت کے اختیارات اور عدلیہ کے کردار سے متعلق وسیع تر تصادم میں بدل گئی۔ اس دوران بائیں بازو کی پوزیشن مسلسل کمزور ہوتی رہی، جبکہ دائیں بازو نے صیہونی حکومت کی سیاست میں اپنا اثر و رسوخ مزید مضبوط کر لیا۔
آپ کا تبصرہ