بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنی حکمرانی کے دور کے سب سے بڑے بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ یمن کی انصاراللہ نے سعودی سرزمین پر اپنے حملے شدید تر کر دیئے ہیں؛ جبکہ دوسری طرف سے ریاض کے اتحادی براہ راست جنگ میں داخل ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔
تیسری قسط:
تیل کے بنیادی ڈھانچے کو خطرہ اور سعودی معیشت پر دباؤ
انصاراللہ نے سعودی عرب کی ریفائنریوں اور تیل کی برآمدی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ جازان میں تیل صاف کرنے کا ایک بڑا کمپلیکس اب بھی بند ہے اور ینبع بھی حملوں کا نشانہ بنا ہے۔
گذشتہ ماہ بھی ڈرون حملوں میں یک پائپ لائن کو نقصان پہنچا جو سعودی عرب کے خام تیل کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے اور آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لئے استعمال ہوتی تھی۔
بلومبرگ نے لکھا کہ اس حملے نے سعودی عرب کو مجبور کیا کہ وہ ایک بار پھر آبنائے ہرمز پر انحصار کرے؛ وہ آبی راستہ جہاں فروری کے آخر میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے آمد و رفت بہت محدود ہو گئی ہے۔
اس ویب سائٹ کے مطابق، اس راستے سے تیل کی منتقلی میں اضافے اور پائپ لائن کی سرگرمی کے دوبارہ آغاز نے سرکاری کمپنی آرامکو کو ستمبر میں اپنی کل برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب بحال کرنے میں مدد پہنچائی۔
سعودی معیشت تنازعات کے بڑھنے سے پہلے ہی دباؤ سے دوچار تھی۔ حکومت کو اب توقع ہے کہ ملکی معیشت رواں عیسوی سال میں 3.6 فیصد سکڑ جائے گی؛ حالانکہ ایران کے ساتھ امریکی-اسرائیلی جنگ سے پہلے سعودی معیشت میں تقریباً 5 فیصد اقتصادی ترقی کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
ریاض نے بجٹ خسارے کی اپنی پیش گوئی بھی جی ڈی پی کے تقریباً 5 فیصد تک بڑھا دی ہے اور بن سلمان کے ترقیاتی پروگرام "وژن 2030" سے متعلق منصوبوں کی مالی معاونت کے لئے قرض لینے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ یہ منصوبے پہلے بھی رکاوٹوں سے دوچار ہو چکے تھے۔
سعودی عرب سے سرمایہ کاروں کے فرار کا خطرہ
جنگ کے دوبارہ بڑھنے سے سرمایہ کار سعودی عرب سے دور ہو سکتے ہیں۔ تیل کمپنیوں بی پی اور شیل کے سی ای اوز نے عالمی توانائی کونسل کی توانائی کانگریس میں اپنی شرکت منسوخ کر دی ہے۔
حملے بن سلمان کی حمایت یافتہ سب سے اہم سرمایہ کاری کانفرنس "فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو" کے انعقاد کو بھی متاثر کر سکتے ہیں، جو اسی ماہ کے آخر میں منعقد ہونے والی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ