بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز (IISS)" جو سیکیورٹی اور دفاعی امور پر توجہ دینے والے اہم ترین مغربی تھنک ٹینکس میں سے ایک ہے، اپنی رپورٹ میں کہتا ہے: ایران کے خلاف جنگ امریکی نے آشکار کر دیا کہ واشنگٹن کی دفاعی چھتری ناکارہ ہے اور امریکہ کی فوجی موجودگی کے سلسلے میں خطے کا تصور بدل گیا ہے۔
لندن میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز نے ایک رپورٹ میں لکھا:
ٹریلینز ڈالر کے ہتھیار؛ جو بے پناہ نقصان سبب بنے
خلیج فارس کے کنارے واقع ریاستیں، جنگ سے اپنی معیشتوں کو پہنچنے والے نقصانات کے پیش نظر، ایران کے حملوں کے مقابلے میں امریکی فوجی اڈوں کی قدر اور افادیت کے بارے میں بڑھتی ہوئے شک و تذبذب میں مبتلا ہیں اور مجبور ہیں کہ اپنے کئی ٹریلین ڈالر کے دفاعی ـ مگر بے فائدہ ـ ڈھانچے کو از سر نو منظم کریں۔
8 اپریل 2026 کی جنگ بندی سے قبل کے ہفتوں میں، خطے کی 12 ریاستیں، جن کی اکثریت قریب قریب خلیج فارس کے علاقے میں واقع ہے، ایران کے 4670 خودکش ڈرونز اور 1400 سے زائد بیلسٹک میزائلوں کے حملوں کا سامنا کر چکی ہیں۔ ان حملوں میں سے تقریباً نصف نے متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنایا تھا۔
رپورٹ میں حوالہ دیے گئے ایک اندازے کے مطابق، خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان کم از کم 58 ارب ڈالر (43 بلین پاؤنڈ) تک پہنچ سکتا ہے۔
بے فائدہ ہتھیار
فوجی موجودگی میں کسی بھی قسم کی کمی یا امریکی افواج کے مکمل انخلا کو "ایک تزویراتی فتح اور اس ملک کی استقامت اور مزاحمت کی تائید" سمجھا جائے گا اور ایران اسے خلیج فارس کے کنارے واقع ریاستوں کو شرمسار کرنے کے لئے استعمال کرے گا کیونکہ انہوں نے کئی دہائیوں تک امریکی حمایت اور حفاظت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔
جنگ نے اس تلخ حقیقت کو بھی آشکار کیا کہ ٹریلین ڈالرز مالیت کے امریکی ہتھیاروں کی خریداری نے نازک موقع پر نہ صرف امریکہ کی طرف سے ان کی حمایت اور حفاظت کو یقینی نہیں بنایا، بلکہ ان کی فوجیں نئی قسم کی جنگوں سے نمٹنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ جبکہ یہ اڈے خود اپنی حفاظت میں بھی ناکام رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: احسان احمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ