بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز (IISS)" جو سیکیورٹی اور دفاعی امور پر توجہ دینے والے اہم ترین مغربی تھنک ٹینکس میں سے ایک ہے، اپنی رپورٹ میں کہتا ہے: ایران کے خلاف جنگ امریکی نے آشکار کر دیا کہ واشنگٹن کی دفاعی چھتری ناکارہ ہے اور امریکہ کی فوجی موجودگی کے سلسلے میں خطے کا تصور بدل گیا ہے۔
لندن میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز نے ایک رپورٹ میں لکھا:
امریکی ہتھیاروں کی خریداری میں بے پناہ سرمایہ کاری کے باوجود عرب ریاستوں کے دفاعی ڈھانچے میں بنیادی کمزوریاں
- امریکی فضائی اور میزائل دفاعی نظاموں اور گولہ بارود پر حد سے زیادہ انحصار
- خطے کی سطح پر ایک مربوط دفاعی ڈھانچے کی تشکیل میں ناکامی؛
- سمندری بارودی صفائی میں ناکامی؛
- محدود جوابی آپشنز؛
- جدید اور مہنگے ہتھیاروں پر حد سے زیادہ انحصار کے باعث تسدید (بازداری = ڈیٹرنس) کے بہت زیادہ اخراجات۔
امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ نے یہ ثابت کیا کہ واشنگٹن کے ساتھ ان ریاستوں کی دیرینہ دفاعی اور سیکیورٹی شراکتیں ایران کے دفاعی حملوں کے خلاف کافی تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکیں۔
امریکی فوجی اڈوں اور عرب ریاستوں کی اس ملک کے ساتھ دفاعی شراکتوں کا واحد نتیجہ یہ تھا کہ کہ یہ ریاستیں ایران کے تابڑتوڑ حملوں کا نشانہ بنیں، صرف یہی!
خلیج فارس کی ریاستوں میں رائے عامہ کا امریکہ کے بارے میں نظریہ "سیکیورٹی فراہم کرنے والی طاقت" سے "تزویراتی زدپذیری کا باعث بننے والے عنصر" میں بدل گیا ہے۔
خطے میں امریکی اڈوں کا وجود خود امریکہ کے لئے بھی بے فائدہ
ادھر ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مورفی نے کہا ہے کہ امریکی فوج میں خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ کے تباہ شدہ اڈوں کی تعمیر نو کی ضرورت اور قدر کے بارے میں سنجیدہ بحثیں شروع ہو گئی ہیں۔
مورفی نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر ایک امریکی فوجی اڈہ مکمل جنگ شروع ہونے کے صرف 24 گھنٹے کے اندر تباہ ہو جائے تو بنیادی طور پر امریکہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے اس کا کیا فائدہ ہوگا؟
اس امریکی سینیٹر نے مزید کہا: میں صاف طور پر کہتا ہوں کہ "ہم اپنی موجودہ فوجی موجودگی کے تمام پہلوؤں کی حفاظت نہیں کر سکتے اور جس چیز کا ہم دفاع نہیں کر سکتے، وہ عملی طور پر بے فائدہ ہے۔"
مورفی نے تجویز دی کہ کم از کم مشرقی بحیرہ روم میں امریکہ کے کچھ اڈوں کو ایران کے میزائلوں کی رینج سے دور واقع مقامات پر منتقل کیا جائے۔
امریکی دفاعی حکمت عملی میں عرب ریاستوں کی حیثیت
مورفی اپنی رپورٹ میں امریکہ کے خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی حفاظت کے عہد کے بارے میں کچھ نہیں کہتے اور صرف امریکہ کے مفادات کو ان اڈوں کا اصل مقصد قرار دیتے ہیں، جو خود اس بات کا اعلان و اظہار ہے کہ واشنگٹن کی حکمت عملیوں میں یہ ریاستیں خود اصل یا حتیٰ کہ ثانوی موضوع نہیں ہیں اور وہ درحقیقت امریکہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے اڈے کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: احسان احمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
https://farsnews.ir/E_Ahmadi/1793385035328140924/اندیشکده-امنیتی-اعراب-در-تکیه-دفاعی-به-آمریکا-بازنگری-می-کنند
آپ کا تبصرہ