بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں یمن کے مغربی ساحل اور آبنائے باب المندب کی یمنی مجاہدین کے ہاتھوں تیزرفتاری سے آزادی کی تصویر کشی کی ہے؛ ایسی تبدیلی جو در حقیقت تبدیلیوں کے ایک سلسلے کا آغاز ثابت ہوئی۔

دوسری قسط:
انصار اللہ کی کاروائی کا آغاز؛ میزائل حملوں سے زمینی کاروائیوں تک
نیویارک ٹائمز کی میدانی تشکیلِ نو (field reconstruction) کے مطابق، یمنی جنگجوؤں نے مورخہ 9 اگست 2026ع کو المخا پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کئے اور اس شہر کی بندرگاہ کو نقصان پہنچایا۔ سعودیوں سے وابستہ ملیشیاؤں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد شہر کا سمندری رسد کا راستہ کاٹنا تھا۔
مورخہ 3 ستمبر 2026ع کو وسیع زمینی حملہ شروع ہؤا۔ طارق صالح کی افواج نے دعویٰ کیا کہ انصاراللہ نے ایرانی مشیروں کی پشت پناہی سے، اس کاروائی میں، تقریباً 80 ہزار فوجی شامل کئے ہیں۔
ادھر نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ وہ اس دعوے کی آزادانہ ذرائع سے، تصدیق نہیں کرا سکا اور انصاراللہ کے ایک رہنما "محمد البخیتی" نے بھی اس کاروائی کو خالص یمنی کاروائی قرار دیتے ہوئے اس میں ایرانی حمایت کے دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
یمنی مجاہدین کے داخلے کے پہلے مقامات میں ایک پہاڑی علاقہ "الکدحہ" شامل تھا؛ ایسا علاقہ جو طارق صالح کی افواج اور ایک دوسرے گروہ کے درمیان منقسم تھا۔
یمن میں ریاض سے وابستہ چار حکومتی اور فوجی اہلکاروں نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ دونوں ملیشیاؤں کے کمانڈر ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے تھے چنانچہ وہ وہ مؤثر تعاون سے عاجز رہے۔ انصاراللہ کی افواج نے اسی خلا کا فائدہ اٹھایا، الکدحہ کا کنٹرول حاصل کیا اور مغرب اور ساحل کی طرف پیش قدمی کی۔
سعودی عرب سے وابستہ نام نہاد حکومت کی ملیشیاؤں نے المخا کی بالائی پہاڑیوں میں پانچ دن سے زیادہ مزاحمت کی، لیکن انصاراللہ کی افواج نے میزائل، ڈرون اور توپ خانے کا استعمال کرتے ہوئے پیش قدمی جاری رکھی؛ جبکہ دو سعودیوں کے ماتحت ملیشیا کے افسران نے کہا کہ سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں کی مدد کے لئے صرف محدود فضائی حملوں پر اکتفا کیا!
شکست و ریخت صرف ایک رات میں
اس رپورٹ کے مطابق، مورخہ 9 ستمبر 2026، کی شام سے 10 ستمبر کی صبح تک، یمن میں سعودی عرب سے وابستہ [نام نہاد] حکومت کی ملیشیائیں تقریباً مکمل طور پر بکھر گئیں۔
سعودیہ سے وابستہ ملیشیا کے ایک جنگجو نے کہا کہ اس کی یونٹ المخا کے باہر تعینات تھی کہ اسے کئی سمتوں سے انصاراللہ کی پیش قدمی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ پھر مواصلات اچانک منقطع ہو گئے اور انہوں نے دوسرے یونٹوں سے رابطہ کھو دیا۔ تھوڑی دیر بعد پسپائی کا مطالبہ کرنے والی چیخوں کی آوازیں سنی گئیں، کیونکہ یمنی مجاہدین عملاً ان کے مورچوں تک پہنچ چکے تھے۔
یمنی افواج نے المخا کے مشرق میں السفوح کے علاقے میں ایک اہم فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا اور اس کے نتیجے میں ساحلی میدان میں تعینات ریاض سے کے ماتحت [نام نہاد] حکومت کی میلیشیائیں کسی کمک سے محروم ہو کر رہ گئیں؛ اور یہ ملیشیائیں دوبارہ منظم ہونے کے بجائے عدن تک پسپا ہو گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ