بین الاقوامی تجزیہ گروپ: مائیکل یانگ، کارنیگی فاؤنڈیشن میں "دیوان" (Diwan) میگزين کے ایڈیٹر مائیکل ینگ (Michael Young) کا ماننا ہے کہ جس وقت امریکہ ایران کے ساتھ اپنے تنازع میں الجھن اور ناکامی کا شکار ہؤا ہے اور ـ "وہم پیدا کرنے کا استاد" ـ ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی رائے عامہ اور دیگر لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کی ناکام فوجی کارروائی درحقیقت اپنے اندر حتمی فتح چھپائے ہوئے ہے، اس کے باوجود "اچھی خبر" یہ ہے کہ یہ تمام پیش رفت مشرق وسطیٰ میں "امریکی ساختہ سلامتی" سے فاصلہ بڑھانے کی طرف بڑھنے کے عمل کو تیزتر کر رہی ہے۔
2۔ تزویراتی ٹوٹ پھوٹ
مائیکل ینگ کی رائے ہے کہ جب ایران یا اس کے اتحادیوں میں سے کسی نے ستمبر 2019 میں 'بقیق' اور 'خریص' میں آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور امریکہ نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، تو سعودیوں نے سمجھ لیا کہ انہیں خود ہی اپنا دفاع خود کرنا ہوگا۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ یہ ادراک ایران کے خلاف امریکہ کی موجودہ جنگ میں مضبوط ہؤا ہے کیونکہ تہران اب بھی خلیج فارس کے تمام ممالک کو نشانہ بنا سکتا ہے اور ضرورت محسوس کرتا ہے تو نشانہ بنا دیتا ہے۔
ینگ دعویٰ کرتے ہیں کہ مارچ 2023 میں جب سعودی عرب اور ایران نے اپنے تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کے مقصد سے بیجنگ معاہدے پر دستخط کئے تو یہ بات کسی حد تک نمایاں ہوئی کہ سعودی اب اپنی تمام تر صلاحیتیں امریکی حفاظتی چھتری کے سائے میں رہنے پر مرکوز نہیں کریں گے۔
ینگ کے نقطہ نظر سے بیجنگ معاہدے میں بھی سعودیوں نے اس حقیقت کی ضمنی طور پر تسلیم کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو الگ تھلگ کرنے اور گرانے کی پالیسی ناقابل عمل ہے، خواہ امریکہ اس کے بعد بھی کئی دہائیوں تک اس ناقابل حصول مقصد کے حصول کے لئے اپنی ناکام کوششیں جاری کیوں نہ رکھے۔
ینگ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اخلاقی ٹوٹ پھوٹ اب ایسی چیز کے ساتھ مل گئی ہے جسے تزویراتی ٹوٹ پھوٹ کہا جا سکتا ہے؛ اگرچہ یہ ٹوٹ پھوٹ شروع میں کسی حد تک مبہم دکھائی دیتی تھی اور سعودیوں نے کئی مواقع پر امریکہ سے اپنی سلامتی کے لئے مضبوط تر عہد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن ایران کے ہاتھوں امریکہ کے تمام فوجی اڈوں کی تباہی کے ساتھ ہی، امریکہ کی بے بسی کے بارے میں سعودی عرب کے شکوک بھی دور ہو کر یقین میں بدل گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ