10 اکتوبر 2026 - 22:09
ایران فاتح ہو گیا اور امریکہ دلدل میں پھنس گیا ہے، فرید زکریا + ویڈیو

مشہور امریکی صحافی نے نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر اسکاٹ گیلووے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:  اس وقت امریکہ کے پاس جنگ سے نکلنے کے لئے کوئی سادہ اور آسان راستہ موجود نہیں ہے؛ ایران کو ایک عملی فتح دیئے بغیر کوئی بھی راستہ نہیں ہے؛ درحقیقت، جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ ایک دلدل سے بھی بدتر ہے، کیونکہ اس کا دائرہ پھیل گیا ہے! انھوں نے کہا کہ اور واضح ہے کہ ٹرمپ نے شکست کھائی اور ایرانی ایرانی فاتح ٹہرے؛ کیونکہ ٹرمپ ان مقاصد تک نہیں پہنچ سکا جنہیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مشہور امریکی صحافی نے نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر اسکاٹ گیلووے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: اس وقت امریکہ کے پاس جنگ سے نکلنے کے لئے کوئی سادہ اور آسان راستہ موجود نہیں ہے؛ ایران کو ایک عملی فتح دیئے بغیر کوئی بھی راستہ نہیں ہے؛ درحقیقت، جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ ایک دلدل سے بھی بدتر ہے، کیونکہ اس کا دائرہ پھیل گیا ہے! انھوں نے کہا کہ اور واضح ہے کہ ٹرمپ نے شکست کھائی اور ایرانی ایرانی فاتح ٹہرے؛ کیونکہ ٹرمپ ان مقاصد تک نہیں پہنچ سکا جنہیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔

ویڈیو کی تفصیل؛ اسکاٹ گیلووے کا دلچسپ سوال اور فرید زکریا کا جواب:

 پروفیسر اسکاٹ گیلووے (Scott Galloway): ایران کے ساتھ جنگ کے سات مہینے گذر چکے ہیں اور رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعلی ریپبلکن مشیران ٹرمپ سے کہتے ہیں کہ وہ بنیادی طور پر ایران کی جنگ سے نکل جائے اور اگر وہ نہ نکلے تو درمیانی مدت کے انتخابات اس سے کہیں بدتر ہونگے، جو وہ تصور کر سکتے ہیں!

اسی حال میں، بائیں بازو میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس جنگ سے بس نکل جاؤ۔

میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ کیا ریاستہائے متحدہ اس جنگ سے نکل سکتا ہے؟

یعنی یہ کہ کیا اسی وقت "صرف نکل سکے گا؟"

میں اس صورتحال کو عملی طور پر ایک دلدل کے طور پر دیکھتا ہو؛ وہی تاریخی نمونہ کہ جس کے بارے میں ممکنہ طور پر کتابیں لکھی جاتی ہیں؛ کیونکہ اس مرحلے میں "صرف نکلنا" ممکن ہے؟

اگر ہم اسی وقت "صرف نکل جائیں"، تو کیا ہم آبنائے ہرمز کو ایران کے سپرد نہیں کر رہے ہیں؟ اور کیا ہم ایران کو خطے کی ایک بالادست نہیں بنا رہے ہیں؟

فرید زکریا: جی ہاں! مسئلہ بالکل یہی ہے۔ آپ نے بالکل مرکزی نقطے کی طرف اشارہ کیا؛ اس وقت نکلنے کے لئے کوئی سادہ اور آسان راستہ موجود نہیں ہے؛ ایران کو ایک عملی فتح دیئے بغیر کوئی بھی راستہ نہیں ہے؛ درحقیقت، جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ ایک دلدل سے بھی بدتر ہے، کیونکہ اس کا دائرہ پھیل گیا ہے!

اس وقت جو کچھ یمن میں حوثیوں (انصار اللہ) کے بارے میں دیکھتے ہیں یہ ہے کہ یہ ملک کافی عرصے سے پر سکون تھا؛ سعودی ایک سمجھوتے تک پہنچ پائے تھے، عملی طور پر انہیں رقم کی ادائیگی اور اس کے بدلے، وہ سعودی عرب پر حملے بند کریں!

اگر آپ کو یاد ہو، سعودیوں نے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کئے تھے؛ میرا مطلبیہ ہے کہ جنگ کے ابتدائی چند ہفتوں میں، امارات پر 2000 حملے ہوئے جبکہ سعودی عرب پر صرف 20 حملے ہوئے!

لیکن اب ایرانی دیکھتے ہیں کہ بالادست قوت بن گئے ہیں اور اس کو برتریاں حاصل ہیں۔ چنانچہ [فرید کے بزعم] انہوں نے حوثیوں کو ترغیب دلائی کہ حملہ کریں۔ [واضح رہے کہ سعودیوں نے جارحیت کا آغاز کیا تھا]

اب حوثی سعودی عرب کو کچھ مطالبات پیش کر رہے ہیں، کہ وہ انہیں اپنے ملک یمن پر زیادہ کنٹرول دے دیں!! [وضاحت: یمنیوں نے اپنے زیادہ تر علاقے واپس لے لئے ہیں جنگ کے ذریعے اور پیشقدمی کر رہے ہیں]۔

ایرانیوں کا اثر و رسوخ بھی بڑھ گیا ہے۔

چنانچہ اگر میں بالکل سادہ الفاظ میں کہنا چاہوں تو جو واقعہ رونما ہؤا یہ تھا کہ ٹرمپ نے بڑا جوّا کھیلا، کیونکہ نیتن یاہو نے اس کو قائل کر دلیا تھا کہ وہ [ٹرمپ] 'ایران کو آزاد کرنے والا' [ہیرو] بن سکتا ہے اور اپنا نام تاریخ میں ثبت کر سکتا ہے!!

اس نے بہت بڑے اہداف کے ساتھ یہ بڑا جوّا کھیلا، لیکن نہ اس کے پاس کوئی حکمت عملی تھی اور نہ ہی ان اہداف تک پہنچنے کے لئے کوئی واضح منصوبہ تھا؛ اور واضح ہے کہ اس نے شکست کھائی!

چنانچہ اس لحاظ سے ایرانی فاتح ٹہرے؛ کیونکہ ٹرمپ ان مقاصد تک نہیں پہنچ سکا جنہیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha