بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ وزارتِ انصاف کے معاون، سید محمد مہدی غمامی نے فارس کے نامہ نگار سے گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ایران کے بارے میں رویے اور واشنگٹن کی ایران مخالف پالیسیوں کے سیاسی و قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا:
دوسری اور آخری قسط:
- کیلیفورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر تورج دریائی، 480 قبل مسیح میں ایرانیوں کے اس کامیاب حملے کی وضاحت یوں کرتے ہیں کہ "ایرانیوں کے حملے سے 18 سال پہلے ایتھنز والوں نے ایک وحشیانہ جنگی جرم کا ارتکاب کیا تھا۔"
• (سنہ 489 قبل مسیح میں) وحشی یونانیوں نے ہخامنشی سلطنت کے ایک صوبے (ساتراپی) کے مرکز 'سارد' شہر پر حملہ کیا، جس میں انہوں نے شہر اور کوبلے کے مندر کو جلا دیا، اور معافی نہ مانگی اور نقصان کی تلافی نہ کی، جس کی وجہ سے ایرانیوں نے یونانیوں کے خلاف انتقامی کارروائی کی۔
• خاص طور پر یہ کہ ہخامنشیوں کی عالمی تہذیب کی جنگ میں، بہت سے متمدن یونانی بھی ایتھنز والوں کے خلاف ایرانیوں سے آ ملے، کیونکہ ایتھنز والے زیادہ تر غلام پرور اور جارح تھے۔ چنانچہ وہ ایران کی سپاہ میں ساتھ شامل ہو گئے تاکہ خشایار شاہ (داریوش کے بیٹے) کی فوج کے ذریعے مجرموں کے سزا سے استثنیٰ (Impunity for Criminals) کے منحوس رجحان اور شہروں میں قتل و غارت گری کا خاتمہ کیا جا سکے۔
- روبیو با اظهاراتی کاملا ایدئولوژیک و تحریفآلود، بیآنکه خود بداند یک سنت تاریخی را بیان کرده است. او که هماکنون عضوی از هیات حاکمه یک رژیم جنایتکار جنگی است، ضمن تمدنی دانستن ایرانستیزی غرب از زمان خشایارشاه و توهین به تمدن پارسی، با ذکر تحریف شده این واقعه تاریخی، یادآور سنت تاریخی اجرای عدالت شده است.
• روبیو نے مکمل طور پر آئیڈيالوجیکل موقف اور تحریف شدہ بیانات کے ذریعے، جانے بوجھے بغیر، ایک تاریخی روایت بیان کی ہے۔ وہ جو اس وقت ایک جنگی مجرم رجیم کی گورننک باڈی کا حصہ ہے۔ خشایار شاہ کے زمانے سے مغرب کی ایران دشمنی کو تہذیبیت کا نام دیا ہے، اور پارسی تہذیب کی توہین کرتے ہوئے، اس تاریخی واقعے کو تحریف شدہ طور پر بیان کرکے، 'انجانے میں' 'قیام عدل' کی تاریخی روایت کی یاددہانی کرائی ہے۔ یعنی یہ کہ
• ایرانی، عنقریب جرائم پیشہ امریکہ کے موت کے رتھ (Chariot of death | یا قتل کی مشین) کو بہت تکلیف دہ جواب دیں گے اور انصاف کو اس عدل و انصاف سے خالی دنیا میں واپس قائم کریں گے جس نے دو مرحلوں میں میزائل برسا کر، بچوں کی ایک بڑی تعداد کا ٹھنڈے پیٹوں، قتل عام کیا اور تسلسل کے ساتھ، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی ایرانی تہذیب کو تباہ کرنے کے اپنے ارادے کا اعتراف کیا ہے۔"
تہذیبیں مٹتی نہیں بلکہ تہذیب دشمنوں کو مٹا کر رکھ دیتی ہیں؛ تاریخ کی روایت یہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ