بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکہ کے دہشت گرد اور وہمی صدر "ڈونلڈ ٹرمپ" نے پیر کی شب اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ میں جلد فتح کے حصول کی انہونی آرزو کا اعادہ کیا۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا: "ہم جیت جائیں گے۔ جس طرح بھی ممکن ہو۔ یہ سلسلہ بہت جلد آگے بڑھے گا! میں جنگ میں گیا تاکہ ایسی چیز کو روک سکوں جو دنیا کے لئے پیش آنے والے بدترین واقعات میں سے ایک کا راستہ روک سکوں۔"
واضح رہے کہ اپسٹینی امریکی صدر نے جنگ شروع کرکے کہا تھا کہ یہ جنگ تین سے سات دن کے عرصے میں ختم ہوگی اور امریکہ فاتح ہوگا اور اس کےبعد اس نے کم از 39 مرتبہ فتحیابی کا دعویٰ کیا اور آج سات مہینے بعد، پھر بھی وہی دعوے دہرا رہا ہے اور تیزرفتار پیش رفت کے دعوے کر رہا ہے؛ گویا اس کو یقین ہے کہ اس کے چاہنے والے احمق ہیں اور وہ پھر بھی اس کے جھانسے میں آئیں گے۔
ٹرمپ دعویٰ کیا کہ اگر وہ ایران سے جنگ شروع نہ کرتا تو صہیونی رجیم کا مکمل طور پر خاتمہ ہو چکا ہوتا۔
اس نے کہا: میں جنگ شروع نہ کرتا تو آج اسرائیل کا وجود تک نہ ہوتا۔
امریکہ کے طفل کُش صدر نے اپنے بے بنیاد اور جھوٹے دعوؤں کے تسلسل میں کہا: میں نے اس [واقعے] کو روک دیا۔ اگر آپ ہنگامہ دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں ایک شہر کو جوہری ہتھیار سے نابود کرنے دیں۔"
واضح ہے کہ امریکہ کے پاس 5000 ایٹمی ہتھیار ہیں، امریکہ پہلا ملک ہے جس نے جاپان پر دو ایٹم بم گرائے ہیں اور اس کے چیلے اسرائیل کے پاس بھی درجنوں ایٹم بم موجود ہیں، لیکن ٹرمپ اپنے خیالات اور وہمیات کی دنیا سے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں سے خبردار کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا: میں صرف اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے بڑے حصوں کے بارے میں بات نہیں کر رہا۔ انہیں جوہری ہتھیار سے ہم پر حملہ کرنے دیں، ان تمام احمق لوگوں کے لئے جو سمجھتے ہیں کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے جاری رہنے میں کوئی حرج نہیں۔
ایران کی بے مثال مزاحمت اور ایرانی افواج کے ہاتھوں پٹے ہوئے وہمی ٹرمپ نے کہا: ایرانی دیوانے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ میں ہمیشہ ان سے کہتا ہوں کہ تم بہت دیوانے ہو!
گویا ٹرمپ کے خلاف، نام نہاد امریکی سلطنت کے خلاف ڈٹ کر لڑنا، پاگل پن کے زمرے میں آتا ہے۔
امریکہ کے جارح صدر نے اس امریکہ میں توانائی کی مہنگائی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں امریکی عوام کو پھر بھی اگلا چوک دکھاتے ہوئے، دعویٰ کیا: جب آپ دیکھیں گے کہ جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی کیا ہوتا ہے، افراط زر جڑ سے ختم ہو جائے گا۔ بالکل!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ