26 ستمبر 2026 - 17:15
سعودی عرب 'ٹرمپیت' پر لگائی ہوئی اپنی شرط ہار گیا - 2

امریکی جریدے "فارن فارن" نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کو اپنی تاریخ کے مشکل ترین سیکورٹی اور اقتصادی مرحلے کا سامنا ہے۔ خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں سعودی تیل کی برآمد کے راستوں پر حملے ہو رہے ہیں، گھٹن بڑھ گئی ہے۔ امریکہ نے بھاری رقوم لینے باوجود سعودی عرب کو سلامتی کے خطرات سے محفوظ نہیں رکھا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی جریدے "فارن افیئرز (Foreign Affairs)" نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کو اپنی تاریخ کے مشکل ترین سیکورٹی اور اقتصادی مرحلے کا سامنا ہے۔ خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں سعودی تیل کی برآمد کے راستوں پر حملے ہو رہے ہیں، گھٹن بڑھ گئی ہے۔ امریکہ نے بھاری رقوم لینے باوجود سعودی عرب کو سلامتی کے خطرات سے محفوظ نہیں رکھا ہے۔ 

فارن افیئرز میگزین کے مضمون کا خلاصہ: 20 اہم نکات:

13۔ پائپ لائن پر حملے کے بعد ولی عہد محمد بن سلمان نے دو بار ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی اور امریکہ سے انصار اللہ کی پیش قدمی روکنے کے لئے ان کے ٹھکانوں پر حملے کی درخواست کی، مگر وائٹ ہاؤس نے ـ دوسرے محاذ میں الجھنے سے بچنے کے لئے ـ صاف انکار کر دیا۔

14۔ ٹرمپ نے یمن کے بارے میں کہا کہ انصار اللہ نے امریکہ کو بتایا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتے، اور یہ کہ انصار اللہ زیادہ جہازوں کو گذرنے دیتے ہیں اور صرف ایک ملک سے ناراض ہیں۔ ٹرمپ نے بڑے فخر سے کہا کہ "انصار اللہ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ امریکی جہازوں پر حملے نہیں کریں گے!"

15۔ سنہ 2025ع‍ میں امریکہ نے انصار اللہ کے خلاف فضائی کارروائی شروع کی، جس کا مقصد بحیرہ احمر میں جہازرانی کی آزادی بحال کرنا تھی۔

سعودی عرب 'ٹرمپیت' پر لگائی ہوئی شرط ہار گیا ہے - 2

16۔ امریکہ نے ڈیڑھ ماہ کی فضائی کارروائی میں تقریباً ایک ارب ڈالر کا اسلحہ استعمال کیا اور کئی لڑاکا طیارے اور 30 کے قریب ایم کیو-9 ڈرون بھی گنوائے، مگر انصار اللہ کے حملے روکنے میں ناکام رہا۔

17۔ امریکہ نے آخر میں کارروائی روک دی اور اسے کامیاب قرار دیا، جبکہ سگنل ایپ کے ذریعے امریکی فوجی منصوبوں کی افشا ہونے کا معاملہ بھی سامنے آیا، جو کافی رسواکن تھا۔

18۔ سعودی عرب نے یمن میں انصار اللہ پر بمباری جاری رکھی، مگر برسوں کی جنگ کے باوجود حوثیوں کو شکست نہیں دے سکا۔

19۔ سعودی مسلح افواج بھاری فوجی بجٹ کے باوجود ساختی طور پر امریکی حمایت پر انحصار کرتی ہے۔

20۔ سعودی عرب نے عمان کے قریب ایک تیل بردار جہاز سے دوسرے میں تیل منتقل کر کے برآمدات میں کمی پوری کرنے کی کوشش کی، مگر یہ طریقے پورے نقصان کی تلافی نہیں کر سکتے۔

المختصر:

سعودی عرب ایک طرف خلیج فارس میں برآمدی راستوں کی بندش، دوسری طرف بحیرہ احمر میں بڑھتے دباؤ اور زمینی تیل پائپ لائنوں کی زدپذیری اور تباہی سے دوچار ہے۔ کئی دہائیوں سے امریکی سیکورٹی حمایت پر انحصار، کم از کم موجودہ حالات میں، ان خطرات کو پھیلنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ امریکہ نے جو کچھ خرچ کیا، وہ سعودی عرب کی جیب سے خرچ کیا اور سعودی عرب کی سلامتی کے لئے نہیں بلکہ ایران کے خلاف اپنی مرضی کی جنگ میں خرچ کیا۔

2۔ خلیج فارس کی ساحلی ریاستیں ہر سال اربوں ڈالر کے ہتھیار امریکہ ہی سے خریدتی تھیں اور امریکی صدر کی ڈکٹیشن پر امریکہ میں کھربوں کی سرمایہ کاری کرتی تھیں۔ یہ پورا پیسہ اس نے اپنی مسلط کردہ جنگ میں ایران کے خلاف استعمال کیا اور ان ریاستوں کی زمینی، فضائی اور بحری حدود بھی ایران کی خلاف استعمال کر رہا ہے۔

3۔ امریکی قابض سنہ 2003 سے سنہ 2011 تک عراق میں موجود رہیں اور 2026 میں داعش کے خلاف جنگ کے بہانے دوبارہ عراق پر تسلط جما گئیں۔ عراقی تیل کی آمدنی اور اس ملک کی فضائی حدود پر امریکہ کا قبضہ ہے اور عراقی مجاہدین اپنی خودمختاری کے لئے لڑ رہی ہیں۔ چنانچہ، اگرچہ ایران ان کی حمایت کرتا ہے، لیکن وہ اپنے ملک کی خودمختاری کے لئے لڑ رہے ہیں، یہی حال فلسطین، لبنان اور یمن کا بھی ہے۔ انہیں ایران کے حمایت یافتہ میلیشیائیں کہنا، ان کی توہین ہے۔ ایران کو پراکسیوں کی ضرورت نہیں ہے جبکہ داعش اور اس کی طرح کی دوسری دہشت گرد تنظیمیں امریکہ اور اسرائیل کے پراکسی ہیں کیونکہ ان کے سامنے ایسا کوئی بنیادی مقصد نہیں ہے جس کے لئے انہیں لڑنا پڑ رہا ہو، وہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے کہنے پر ان ہی کے مفادات کے لئے لڑ رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رپورٹ: مہدی محمودی

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha