ارجنٹائنی تجزیہ کار کے قلم سے؛
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایران کے خلاف ایک غیر قانونی، دہشت گردانہ اور مجرمانہ حملے کے آغاز کے چھ ماہ بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی اسٹریٹجک گھٹن روز بروز زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ کی ریپبلکن پارٹی کے کیمپ میں کچھ پرانے اور مشہور جنگجو (جن میں خلیج فارس کی دوسری جنگ کا معمار رابرٹ کیگن شامل ہے) بھی ٹرمپ کی رسوا کن شکست اس کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ آگے آنے والے مضمون میں، آرجنٹینی بائیں بازو کے تجزیہ نگار اور مصنفہ کلاڈیا سیناتی (Claudia Cinatti) نے لاطینی ویب سائٹ "لا ایزکیردا ڈیاریو (La Izquierda Diario)" (31 اگست) میں تسلط پسندی کے خلاف اور بالادستی مخالف سماجی بیداری کے نقطہ نظر سے ـ خاص طور پر خود امریکہ میں اور دنیا بھر میں ٹرمپ جیسے نیم فاشسٹ دائیں بازو کی سماجی بنیاد کے شدید کٹاؤ اور کمزوری کے حوالے سے ـ ٹرمپ اور اس کے امپیریلسٹ اتحادیوں کی شکست کا جائزہ لیا ہے۔
دوسری اور آخری قسط:
خطے پر اثرات:
• امریکہ کو ایشیا اور یورپ سے وسائل مشرق وسطیٰ منتقل کرنا پڑے
• خلیج فارس میں امریکی اڈے (کویت، قطر، سعودی عرب، بحرین، اردن) بیکار ہو گئے
• ابراہیم معاہدے ناقابل عمل ہو گئے
• سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان نیا دفاعی معاہدہ ہؤا
• خطے کے ممالک امریکہ پر انحصار کم کر کے چین سمیت دیگر شراکت داروں کی طرف مائل ہو گئے
ٹرمپ کی داخلی کمزوری:
• رائٹرز/ایپسوس کے تازہ سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت صرف 30 فیصد رہ گئی
• امریکہ میں مہنگائی اور اسرائیل کے ساتھ اتحاد کے خلاف عوامی غم و غصہ
• نومبر 3 کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ٹرمپ شکست کھا کر "لنگڑی بطخ" بن جائے گا
• ٹرمپ ایک کمزور بوناپارٹی (Bonapartist) حکومت کا رہنما ہے، جس کی بنیاد صرف انتہائی دائیں بازو کے حامیوں تک محدود ہے
• یہ کمزوری ہی اس کی جارحانہ اور آمرانہ پالیسیوں کی اصل وجہ ہے
طویل مدتی اثرات:
• ایران میں امریکی شکست نے عالمی امپیریلزم کے زوال کو گہرا کر دیا اور امریکہ کے پیروکاروں کے ہاں یہ زوال قابل یقین ہو گیا
• روس اور چین جیسے بڑے حریفوں نے امریکی کمزوریوں کو بھانپ لیا
• لاطینی امریکہ میں انتہائی دائیں بازو کی حکومتیں کمزور ہو گئیں
• امریکی نوجوانوں میں "سامراج مخالفت" کا رجحان مقبول ہو گیا، فلسطین کی حمایت کے لئے بین الاقوامی تحریک شروع ہوئی
• سوال: کیا ہم "ویتنام لمحے" (یعنی سائیگون کے لمحے (Saigon moment) میں داخل ہو رہے ہیں؟ یعنی امپیریلزم کے ساتھ ٹکراؤ اور سیاسی بنیاد پرستیکا نیا دور، جو معاشرتی انقلاب کو دوبارہ فعال کر سکتا ہے۔
خلاصہ:
ایران کے خلاف جنگ امریکہ اور ٹرمپ کے لئے ایک "حماسی تباہی (Epic disaster)" ثابت ہوئی۔ یہ جنگ امریکی امپیریلزم کی کمزوری، فوجی وسائل کی کمی، اتحادیوں کے ٹوٹنے اور عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ کے زوال کو عیاں کرتی ہے۔ ایران نے نہ صرف مزاحمت کی بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بدل دیا۔ طویل مدت میں یہ شکست امریکی انتہائی دائیں بازو اور اس کے عالمی اتحادیوں کو کمزور کرے گی، اور سماجی انقلابوں کے نئے امکانات پیدا کرے گی۔
دوسری قسط ضرور دیکھئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
https://www.mashreghnews.ir/amp/1837405/
آپ کا تبصرہ