اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حزب اللہ لبنان کی مجلسِ عاملہ کے سربراہ شیخ علی دعموش نے ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے ’’رہائش منصوبہ‘‘ شروع کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے سے وہ افراد فائدہ اٹھا سکیں گے جن کے مکانات تباہ ہو چکے ہیں یا انہیں اتنا نقصان پہنچا ہے کہ وہ رہنے کے قابل نہیں رہے۔
النشرہ کے مطابق، شیخ علی دعموش نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت مکان کا کرایہ ادا کرنے اور گھریلو سامان خریدنے کے لیے مالی مدد دی جائے گی۔ یہ منصوبہ 2024 میں حزب اللہ کی جانب سے نافذ کیے گئے امدادی پروگرام سے ملتا جلتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے سے فائدہ اٹھانے کے لیے شرائط اور پابندیوں کا تعین دستیاب وسائل اور مالی گنجائش کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا، کیونکہ ان کے بقول لبنان کے تمام شہری حمایت اور امداد کے مستحق ہیں۔
امدادی منصوبے سے کون فائدہ اٹھا سکے گا؟
شیخ علی دعموش نے بتایا کہ اس منصوبے میں ان رہائشی مکانات کے مالکان شامل ہیں جو مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے مکانات کے مالکان بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے جو ایسی عمارتوں میں واقع ہیں جنہیں جائزوں کے مطابق مکمل یا جزوی طور پر منہدم کیا جانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ سرحدی علاقوں یا ان سے ملحقہ علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہونے والے افراد بھی اس منصوبے میں شامل ہیں، خواہ ان کے مکانات تباہ ہوئے ہوں، انہیں نقصان پہنچا ہو یا وہ محفوظ رہے ہوں۔ ان علاقوں میں تمام وہ شہر اور قصبے شامل ہیں جو قبضے میں ہیں یا مقبوضہ علاقوں کے قریب واقع ہیں۔
حزب اللہ کی مجلسِ عاملہ کے سربراہ کے مطابق، ایسے مکانات کے مالکان بھی اس امدادی منصوبے میں شامل ہوں گے جنہیں وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے اور اب ان میں رہائش ممکن نہیں رہی۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی رقوم
شیخ علی دعموش نے بتایا کہ بیروت اور اس کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں ہر رہائشی مکان کے لیے 14 ہزار ڈالر مختص کیے گئے ہیں، جبکہ بیروت اور اس کے جنوبی مضافاتی علاقوں سے باہر تباہ ہونے والے ہر مکان کے لیے 12 ہزار ڈالر دیے جائیں گے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ان رقوم میں مکان کے کرائے کے لیے مخصوص امداد بھی شامل ہے۔ بیروت اور اس کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں ہر خاندان کے کرائے کے لیے 6 ہزار ڈالر جبکہ دیگر علاقوں میں 4 ہزار ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
شیخ علی دعموش نے مزید کہا کہ امداد کی پہلی قسط کے طور پر بیروت اور اس کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں 3 ہزار 500 ڈالر جبکہ دیگر علاقوں میں 3 ہزار ڈالر ادا کیے جائیں گے۔
آپ کا تبصرہ