23 ستمبر 2026 - 07:24
امریکی یک قطبی وہم کا خاتمہ؛ مسلط کردہ جنگ اور ایران کی تاریخ ساز مزاحمت

اگرچہ کچھ تجزیہ کار اب بھی 1990 کی دہائی، اور سرد جنگ کے دور کے اختتام، کے وہم میں مبتلا ہیں اور امریکہ کو دنیا کی بالادست طاقت سمجھتے ہیں، لیکن وہ اس حقیقت کے ادراک قاصر ہیں کہ دنیا کثیر قطبی ہو چکی ہے اور ایران، روس اور چین کی طرح نئے عالمی نظام میں ایک آزاد قطب بن چکا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مورخہ 28 فروری 2026ع‍، وہ دن جسے عالمی جغرافیائی سیاست کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر درج کیا جائے گا۔ اس دن، امریکہ اور اسرائیل نے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ایران کے خلاف وسیع حملے شروع کئے۔ واشنگٹن کا اعلان کردہ مقصد سادہ اور واضح تھا: "ایران کو بطور علاقائی طاقت ختم کرنا"۔ لیکن سات ماہ بعد کی میدانی حقیقت نے دنیا کو بالکل مختلف تصویر دکھائی ہے۔ امریکہ اس جنگ میں ـ جو اس نے خود شروع کی تھی ـ نہ صرف اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پایا، بلکہ ایک اسے ایسے واقعے کا سامنا کرنا پڑا جس نے بین الاقوامی نظام کے فارمولوں کو ہمیشہ کے لئے بدل دیا: یک قطبی دنیا کے وہم کا خاتمہ۔

کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر، جیفری ساکس (Jeffrey D Sachs) نے اس حقیقت کو بخوبی بیان کیا ہے: "ایران کی جنگ وہ لمحہ تھا جب امریکہ کی مطلق طاقت کا افسانہ حقیقت کی پتھریلی دیوار سے ٹکرایا"۔ یہ صرف ایک حکومت یا ایک صدر کی شکست نہیں تھی، بلکہ اس نے "سرد جنگ کے بعد امریکی خارجہ پالیسی کے پورے منصوبے کی تباہی" کو نمایاں کر دیا۔ واشنگٹن سنہ 1991ع‍ میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد کے عارضی خلا کو دائمی تسلط سمجھ بیٹھا، لیکن "یک قطبی دنیا کا خیال شروع ہی سے ایک وہم تھا"۔ ایران نے 2026 میں اس وہم کو ہمیشہ کے لئے توڑ دیا۔

پہلا حصہ: مسلط کردہ جنگ اور ایران کی تاریخ ساز مزاحمت

امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری سنہ 2026ع‍ کو ایران میں "حکومت کی تبدیلی" کے مقصد سے اپنے حملے شروع کئے۔ اسرائیل کے اس وقت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے صاف طور پر اعلان کیا کہ "ایران میں حکومت کی تبدیلی" اس جنگ کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کا منصوبہ اس مفروضے پر مبنی تھا کہ "مسلسل فوجی دباؤ اسلامی جمہوریہ کو کمزور کر دے گا اور اس کی قیادت کو وسیع رعایتیں دینے پر مجبور کرے گا"۔

لیکن ایران، تمام پیش گوئیوں کے برخلاف، نہ صرف گرا نہیں، بلکہ بے مثال مزاحمت کے ساتھ اپنا ارادہ دشمن پر مسلط کر دیا۔ امریکہ کے سابق مذاکرات کار "ڈینس راس (Dennis Ross)" نے اعتراف کیا ہے کہ "ایرانیوں نے ہمیشہ برداشت کے لحاظ سے ہمیں حیران کئے رکھا ہے"۔ راس نے زور دے کر کہا کہ صرف فوجی اور اقتصادی دباؤ ایران کو پسپائی پر مجبور نہیں کر سکتا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے چیف آف اسٹاف، ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے "12 روزہ جنگ، 40 روزہ جنگ، رمضان جنگ اور ہرمز جنگ" سے حاصل ہونے والے قیمتی تجربات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "ایران کی تسدیدی طاقت (Power of Deterrence) نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے"۔ انھوں نے قطعی طور پر اعلان کیا: "جب تک عوام متحد ہیں اور نظام کے ذمہ داروں کے ساتھ ہیں، کوئی بھی ایران کو شکست نہیں دے سکتا"۔

جنگ کے ساتویں مہینے میں، ایران نہ صرف دفاعی پوزیشن سے باہر نکلا، بلکہ اس نے باقاعدہ طور پر اپنی دفاعی حکمت عملی کو جارحانہ حکمت عملی میں بدل دیا؛ اور مشرق وسطیٰ بھر میں امریکی فوجی اہداف کے خلاف پیشگی حملے شروع کئے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے کویت، اردن، بحرین، عراق اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں کے خلاف وسیع میزائل اور ڈرون حملے کئے۔

امریکہ میں جنگ کے مطالعے کے ادارے کے ماہرین نے اعتراف کیا ہے کہ یہ حملے "ٹارگیٹنگ کے نئے ایرانی نظریئے کو عیاں کرتے ہیں جس میں امریکی فوجی اثاثوں کے خلاف پیشگی حملے (Preemptive strikes) شامل ہیں"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha