بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || انصار اللہ یمن کے قائد سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے مزید کہا: سعودی عرب نے یہ الزامات لگا کر صدی کا جھوٹ بولا ہے، کیونکہ یمنی مکہ کے بارے میں سب سے زیادہ غیرت رکھتے ہیں، اگر سعودی عرب اور بعض دوسرے ممالک کے سربراہان ـ جو مکہ کی سلامتی کے بارے میں فکرمندی کا ڈھونگ رچا رہے ہیں ـ واقعی مقدسات کے لئے فکرمند ہیں تو ـ میدان میں آئیں اور مقدسات کا دفاع کریں۔
انصاراللہ کے رہنما نے سعودی عرب کی طرف سے یمن پر مکہ پر مبینہ حملوں کے بارے میں الزامات کو صدی کا جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ ایسی ہرزہ گوئی صرف ریاض کے کرائے کے فوجیوں کی میدانی شکستوں کو چھپانے کے لئے ہے۔
انصار اللہ یمن کے قائد، سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے آج جمعرات کے روز اس ملک اور خطے کی تازہ ترین پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ یمن نے جنگ کے دوران امریکہ اور سعودی عرب کے خلاف عظیم فتوحات حاصل کی ہیں۔
انھوں نے ان کامیابیوں پر یمنی قوم کو مبارکباد دی اور کہا: ہماری قوم نے ظالمانہ جارحیت اور محاصرے کا مقابلہ کیا ہے۔ ہم 12 سال سے سعودی عرب کے محاصرے کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ محاصرہ امریکی نگرانی میں جاری ہے۔
انصاراللہ کے رہنما نے مزید کہا: کشیدگی میں کمی کے مرحلے میں سعودی حکومت نے سنجیدگی سے امن کی طرف قدم نہیں بڑھایا، بلکہ اسے ظالمانہ اقدامات تیز کرنے اور تکفیری فوجی تشکیلات قائم کرنے کا موقع سمجھ لیا تھا۔
سعودی عرب اور اسرائیل یمن کے خاتمے کے لئے کوشاں
انھوں نے ـ یہ بتاتے ہوئے کہ صیہونی رجیم بھی کشیدگی میں کمی کے مرحلے میں یمن کو ہر سطح پر مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ـ واضح کیا: سعودی عرب ہمارے ملک کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پرتعلقات قائم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، بلکہ وہ اس کا اصرار ہے کہ یہ تعلقات ایک طرف سے ذلت اور دوسری طرف سے تسلط کی بنیاد پر ہوں۔
سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے کہا: یمن "ناگزیر دفاع" کی حالت میں ہے، سعودیوں نے ہمارے ملک کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا ہے؛ حالیہ کشیدگی صنعا کے ہوائی اڈے پر سعودی بمباری سے شروع ہوئی۔ درحقیقت ہر مرحلے میں بغیر کسی جائز جواز کے جارحیت کا آغاز کرنے والا سعودی دشمن ہی ہے۔ ہم نے کسی پر جارحیت نہیں کی۔
انصاراللہ کے قائد نے مزید کہا: گذشتہ 12 برسوں میں ہماری مسلح افواج اور سعودی جارحین کے درمیان ایک سادہ موازنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ کون سا فریق اخلاقی، شرعی، دینی اور انسانی اصولوں کا پابند ہے اور کون ان معیاروں کو پامال کرتا رہا ہے۔ جارح سعودی دشمن نے ہمارے ملک میں ہر چیز پر حملہ کیا اور 2000 مساجد کو تباہ کر دیا اور کسی بھی حرمت اور انسانی اور اسلامی حدود کی حرمت کا لحاظ نہیں رکھا۔
سعودی عرب یمن میں نسل کشی کا مرتکب ہؤا ہے
انھوں نے کہا: سعودی عرب نے ہزاروں یمنی بچوں کا قتل عام کیا؛ سعودی عرب نے ہزاروں خواتین کو قتل کیا، شہریوں پر اور ان کے گھروں، اسکولوں ـ حتی کہ جیل خانوں ـ پر حملے کئے اور شہروں، محلوں اور بازاروں پر بمباری کی جو نسل کشی کے زمرے میں آتی ہے۔
مکہ مکرمہ پر حملہ، یمن کے خلاف ریاض کا بڑا جھوٹ، میدانی شکست چھپانے کے لئے
انصاراللہ کے رہنما نے یمن کی مذہبی علامات سے سعودیوں کی دشمنی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: سعودی عرب نے گذشتہ 12 سالہ جارحیت اور محاصرے کے دوران یمن کی دو ہزار سے زیادہ مساجد کو نشانہ بنایا، جن میں تاریخی مساجد بھی شامل ہیں۔
انھوں نے کہا: یمن کے پاس سعودیوں کے جرائم کے بہت سے دستاویزی ثبوت ہیں، محاصرے کا مسئلہ اب بھی سعودی عرب کے ساتھ اہم مسائل میں شامل ہے، کیونکہ وہ ہوائی اڈوں کی بندش اور درآمدی اشیاء پر غیرمنصفانہ اور نامعقول پابندیاں جاری رکھنے پر بضد ہیں۔ ہماری قوم کو حتیٰ کہ خوراک اور دوا کے معاملے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
مکہ مکرمہ پر حملے کا بھونڈا اور شرمناک الزام
سید بدرالدین الحوثی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ریاض یمن کی قوم کے خلاف اپنے جرائم کو جائز قرار دینے کے لئے تمام ذرائع ابلاغ اور تشہیری سہولیات استعمال کرتا ہے، واضح کیا: سعودی عرب کے بدترین الزامات اور شنیع ترین اور قبیح ترین جھوٹوں میں سے ایک مکہ مکرمہ پر حملے کا بہتان ہے۔
انھوں نے کہا: مکہ مکرمہ پر حملے کے بارے میں سعودی جھوٹ یمن میں اس ملک کے کرائے کے فوجیوں کی میدانی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ہےـ
انھوں نے مزید کہا: سعودی عرب نے یہ الزامات لگا کر صدی کا جھوٹ بولا ہے، کیونکہ یمنی مکہ کے بارے میں سب سے زیادہ غیرت رکھتے ہیں، اگر سعودی عرب اور بعض دوسرے ممالک کے سربراہان ـ جو مکہ کی سلامتی کے بارے میں فکرمندی کا ڈھونگ رچا رہے ہیں ـ واقعی مقدسات کے لئے فکرمند ہیں تو ـ میدان میں آئیں اور مقدسات کا دفاع کریں۔
انھوں نے کہا کہ جو لوگ مکہ مکرمہ کی سلامتی کے بارے فکرمند ہیں، وہ در حقیقت خود اسلامی مقدسات سے غداری کے مرتکب ہوئے ہیں، بیت المقدس اور مسجد الاقصیٰ بھی اسلامی مقدسات میں شامل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ