15 ستمبر 2026 - 10:34
ایرانی حملوں کے اثرات؛ سفارتی تنصیبات کو نقصان، یینٹاگون کا اعتراف

پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل نے ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں پہلی سرکاری رپورٹ میں پہلی بار ایران کے حملوں کے بھاری نقصانات کا اعتراف کیا اور کہا کہ خطے میں امریکہ کی سینکڑوں عمارتیں اور ڈھانچے نقصان سے دوچاریا یا تباہ ہو چکے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی وزارت جنگ (پینٹاگون) کے نگران ادارے نے ایران کے ساتھ جنگ میں اس ملک کے فوجی سازوسامان اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں اپنی پہلی سرکاری رپورٹ پیش کی ہے اور اعتراف کیا ہے کہ مغربی ایشیا کے پورے خطے میں امریکی اڈوں میں موجود سینکڑوں عمارتوں اور ڈھانچوں کو ایرانی حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل پلیٹ بی مورنگ (Platte B. Moring) نے اس خصوصی رپورٹ میں، جو پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کے دفاتر، امریکی وزارت خارجہ اور امریکی بین الاقوامی ترقیاتی ایجنسی کی طرف سے تیار کی گئی ہے اور پیر کے روز شائع ہوئی، امریکی فوج کی مرکزی کمانڈ (سینٹ کام) کے ساتھ اپنے رابطوں کے حوالے سے اعتراف کیا کہ جنگ کے ابتدائی مہینوں میں ایران کے حملوں نے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی اڈوں میں موجود سینکڑوں عمارتوں اور ڈھانچوں کو تباہ کر دیا ہے یا انہیں نقصان پہنچایا ہے۔

اس رپورٹ میں 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے 30 جون تک کے عرصے کا جائزہ لیا گیا ہے اور امریکہ کے کچھ کلیدی ہتھیاروں کے ذخائر میں شدید کمی کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

سی این این نیٹ ورک نے اس سے قبل رپورٹ دی تھی کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکہ کے کچھ اہم سازوسامان، بشمول میزائل دفاعی ریڈار سسٹمز، ایران کے حملوں کا نشانہ بنے اور تباہ ہوئے۔

امریکی سفارتی تنصیبات کو 18/4 کروڑ ڈالر کا نقصان

یہ رپورٹ، جو امریکی وزارت خارجہ کے انسپکٹر جنرل کے دفاتر اور امریکی بین الاقوامی ترقیاتی ایجنسی کے تعاون سے تیار کی گئی ہے، فوجی نقصانات کے علاوہ خطے میں واشنگٹن کی سفارتی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیتی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں امریکی سفارتی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ تقریباً 18/4 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔

البتہ اس رپورٹ میں امریکی اڈوں اور فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی سطح یا اعداد و شمار کے بارے میں واضح معلومات نہیں دی گئی ہیں۔

سی این این نے گذشتہ مہینوں میں ـ شدید جھڑپوں کے دوران ـ رپورٹ دی تھی کہ عراق، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں امریکی تنصیبات بار بار ایران اور خطے کی مقاومتی افواج کے حملوں کا نشانہ بنیں۔ [کیونکہ امریکی سفارتخانے در حقیقت فوجی اڈے ہی ہوتے ہیں اور ان میں ہزاروں امریکی تعینات ہوتے ہیں، اور یہ سفارتی حدود سے خود بخود باہر ہوکر فوجی اور جاسوسی سرگرمیوں کے مراکز بن جاتے ہیں]۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارچ کے اوائل میں ریاض میں امریکی سفارت خانہ دو ایرانی ڈرونز کا نشانہ بنا اور اسے وسیع نقصان پہنچا۔ [سفارت خانے میں واقع سی آئی کا مرکز اس حملے میں نشانہ بنا تھا]۔

انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق، ان نقصانات میں ریاض میں واقع سفارتخانے کے کمپلیکس میں واقع امریکی مرکزی انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے اسٹیشن سے متعلق تنصیبات بھی شامل تھیں۔ اسی مارچ کے اوائل میں ایک اور ڈرون نے دبئی میں امریکی قونصل خانے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور 'سروسز بلڈنگ' کو نقصان پہنچایا۔ [سی آئی کی تنصیبات کو کوڈ نیم: سروسز بلڈنگ]۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: شیدا فرہادیان پور

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha