بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ڈاکٹر جیفری ساکس (Jeffery Sachs) نے رشیا ٹوڈے نیٹ ورک کے پروگرام "Going Underground" کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی رجیم کی فوجی جارحیت پر تنقید کرتے ہوئے کہا: 'ٹرمپ اس بات پر فخر کرتا ہے ہیں کہ امریکہ کے سابق چھ سربراہوں نے ایران کے خلاف جنگ کے منصوبے کے خلاف مزاحمت کی، لیکن اس نے یہ کر دکھایا"۔
ساکس نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی فخر کی بات ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس عہدے پر اب تک کی سب سے چونکا دینے والی نااہلی کی علامت ہے۔
ساکس نے اس بارے میں مزید کہا: اگر امریکہ نکل جائے تو ایرانی آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیں گے تاکہ تیل بیچ سکیں، اور خلیج فارس کا باقی علاقہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ جائے گا۔
انھوں نے ان جھڑپوں کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: یہ امریکہ ہی تھا جس نے اسرائیل کے ساتھ اس معاملے کو ہوا دی۔ یہ امریکہ تھا جس نے اسے جاری رکھا۔
ساکس کے مطابق، کوئی وجہ نہیں کہ یہ جنگ (حتیٰ کہ) ایک گھنٹہ بھی، مزید جاری رہے۔'
جیفری ساکس نے زور دیا: میری رائے کے مطابق، امریکہ کو واپس لوٹنا چاہئے، اس کو گھر جانا چاہئے۔۔۔ اگر آپ نے انتہائی احمقانہ کام کیا ہے تو اسے روک دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون از: روزنامہ کیہان
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ