بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ٹرمپ نے گذشتہ 8 مہینوں میں جنگ جیتنے کے لئے ہر قسم کے ہتھیار استعمال کر لئے ہیں؛ ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیوں سے لے کر معاشی دباؤ تک؛ لیکن یہ تمام ہتھیار ایرانی قوم کے عزم و ارادے کے سامنے ناکام ہو چکے ہیں۔ وہ تالا جو ایران نے آبنائے ہرمز پر ڈال دیا ہے وہ نہ صرف ٹرمپ کے دباؤ سے نہیں کھلا، بلکہ آبنائے باب المندب پر محور مقاومت (محاذ مزاحمت) کے کنٹرول کے ساتھ، ـ جو مغربی ایشیا کے علاقے کا دوسرا تزویراتی آبنائے ہے، ـ ایران کی قیادت میں محور مقاومت سے امریکی صدر کی شکست بہت زیادہ واضح اور عیاں ہو گئی ہے۔
اٹلانٹک میگزین نے بھی ایک رپورٹ میں ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے میں ناکامی پر ٹرمپ کے شدید غصے کا اعتراف کیا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے: "ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے میں ٹرمپ کی ناکامی نے اس کو غضبناک اور ساتھ ہی حیرت انگيز طور پر مفلوج کر دیا ہے۔

حالانکہ ٹرمپ کی عادت تھی کی کہ پوری دنیا ـ سربراہان سے لے کر میڈیا تک ـ اس کو توجہ دیں۔ اٹلانٹک اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے: ٹرمپ اپنی عقل سے محروم ہو رہا ہے کیونکہ ایران ٹرمپ کی باتوں پر کان نہیں دھرے گا۔
ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کو ایک بار پھر نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے اور امریکہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت 6 ڈالر فی گیلن کی حد سے تجاوز کر گئی ہے اور اس سازوسامان کی قیمت میں زبردست اضافہ کیا ہے جو ٹرکوں کے ذریعے ملک کی شاہراہوں سے گذر کر منتقل کیا جاتا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، ریپبلکنز کو خوف ہے کہ توانائی کی اونچی قیمت ڈیموکریٹس کو وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
چنانچہ ٹرمپ کو قربانی کے ایک بکرے کی تلاش تھی جو لگتا ہے کہ اس نے ڈھونڈ لیا ہے اور وہ ہے "بے چارہ یوکرین، بے چارہ زیلینسکی"؛ اس نے یوکرین کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔ اگرچہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کی بنا پر کسی یورپی ملک کو ـ اپنے وجود کے لئے لڑ رہا ہے ـ مورد الزام ٹھہرانا ناممکن نظر آتا ہے، لیکن لگتا ہے کہ ٹرمپ یوکرین کو ملزم ٹہرانے کے فیصلے کو ایران پر حملے کے اپنے فیصلے کی ذمہ داری قبول کرنے پر ترجیح دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون از: روزنامہ کیہان
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ